مذہبی شخصیات کا ’قاتل‘ گرفتار
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/03/070304_shamzai_killer_ns.shtml
کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی
کراچی پولیس نے کالعدم شیعہ شدت پسند تنظیم سپاہ محمد کے ایک مبینہ کارکن کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم مفتی نظام الدین شامزئی اور مولانا اعظم طارق کے قتل سمیت کئی فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث ہے۔
ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر نے بتایا کہ ملزم حماد ریاض نقوی کو کراچی میں ملیر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی گرفتاری پولیس سے مقابلے کے بعد عمل میں آئی اور اس دوران اس کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس نے حماد ریاض سے ایک کلاشنکوف، دو دستی بم اور ایک پستول برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حماد ریاض کالعدم انتہا پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنماء اور رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزموں کا ساتھی ہے۔ پولیس کے مطابق اسی گروہ نے سال دو ہزار چار میں حملہ کر کے مفتی شامزئی کو قتل اور ان کے بیٹے کو زخمی کر دیا تھا۔
اعظم طارق کو اسلام آباد میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا
اسی سال جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر مفتی جمیل احمد اور عالمی مجلس ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا نذیر احمد تونسوی بھی ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس ان دونوں علماء کے قتل میں بھی حماد رضا اور ان کے ساتھیوں کو ملوث بتا رہی ہے۔
ان واقعات کے بعد کراچی شہر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔
سی آئی ڈی پولیس کے مطابق دو ہزار پانچ میں ملزم ریاض حماد اور اس کے ساتھیوں نے مفتی عتیق الرحمان، مولانا ارشاد الحق اور عمار عتیق الرحمان کو بھی قتل کردیا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروہ کی سرپرستی ملتان کا ایک ڈاکٹر کرتا ہے اور وہی اس کا ہدف مقرر کرتا ہے۔ پولیس کی ایک ٹیم ملتان میں مذکورہ ڈاکٹر کی گرفتاری کے لیے روانہ کی جا چکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث اس گروہ میں شامل تمام ملزم گریجویٹ ہیں، جن میں ایک پولیس کانسٹیبل، ایئر فورس کا ایک سابق ملازم اور ایک نجی کمپنی کا ملازم شامل ہیں۔
No comments:
Post a Comment