Thursday, September 1, 2011

ہندو ہیں اس لیے مدد نہیں ہوئی۔


کراچی سے میری منزل بدین سے کوئی چالیس کلومیٹر دور واقعے شہر کڑیو گھنور تھا جہاں سو سے زائد ہندو خاندان بے گھر ہونے کے بعد شامیانے میں شب و روز گذار رہے ہیں مگر ہم جیسے ہی بدین کی شہر گوڑچی پہنچے تو سڑک بند تھی اور متاثرین دہرنا دیکر بیٹھے ہوئے تھے۔

مظاہرین میں سے جمن نامی شخص نے بتایا کہ ان کو ایک دانہ بھی امداد نہیں ملی، ان کی زیر آب زمینوں اور گاؤں سے پانی نکالنے کا بھی کوئی بندوست نہیں کیا گیا۔

دو گھنٹے تک راستے کھلنے کا انتظار کرتے رہے جس دوران کراچی بدین روڈ پرگاڑیاں قطار بناتی رہیں، بعد میں سندھ کے مستعفی صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے اس نمائندے نہ پہنچ کر لوگوں کو یقین دہانی کرائی جس کے بعد سڑک کھول دی گئی۔

گولاڑچی سے بدین جاتے ہوئے بائیں طرف سڑک کڑیو گھنور جاتی ہے، جس کے دونوں اطراف بارش اور سیم نالے کا پانی کسی جھیل کا منظر پیش کرتا ہے جبکہ سڑک پر مختلف مقامات پر لوگ اپنے مال مویشی کے ساتھ موجود ہیں، ان کے لباس سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کسان اور اقلیتی ہندو ہیں۔

کڑیو گھنور شہر میں داخل ہوتے ہی کھلے میدان میں کیمپ نظر آگیا، جو شامیانوں کی مدد سے بنایا گیا تھا، بچے، خواتین اور بوڑھے چارپایوں یا زمین پر لیٹے ہوئے تھے، اس کیمپ کی نگرانی شام لال نامی نوجوان کر رہے تھے۔

شام لال نے بتایا کہ کیمپ میں سو خاندانوں کی رہائش ہے وہ مزید لوگوں کو یہاں نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کے پاس گنجائش ہی نہیں ہے، انہوں نے شامیانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ کرائے پر حاصل کیے ہیں اور پانچ ہزار رپے یومیہ ادا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق وہ ضلعی انتطامیہ کے پاس مدد کے لیے گئے تھے مگر انہوں نے مدد کے بجائے الٹا ڈانٹا اور کہا کہ کس سے پوچھ کر یہ کیمپ قائم کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے تو ان متاثرین کی کوئی مدد نہیں ہوئی، مگر چند لوگوں کے رابطے کے بعد مخیر حضرات اور این جی اوز نے ان متاثرین کے لیے سامان اور راشن بہیجا مگر وہ بھی انہیں نہیں مل سکا۔

شام لال نے بتایا کہ ان کے پاس سامان کو دو ٹرک پہنچے تھے، مقامی تھانیدار نے دیکھا کہ ہندو لوگوں کو اتنا سامان مل رہا ہے اس نے پورے شہر میں خبر کردی جس کے بعد لوگوں نے حملہ کردیا اور تشدد کے بعد سامان لوٹ کر لے گئے وہ ویسے ہی بیٹھے ہیں۔

کیمپ میں نہ پینے کے صاف پانی کا کوئی بندوبست تھا اور نہیں حاجت کے لیے کوئی جگہ بنی ہوئی تھی، جس کے باعث کیمپ میں گیسٹرو کے باعث تین افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

کیمپ میں موجود مومل نامی خاتون سے کا خیال تھا کہ وہ اقلیتی ہیں اس لیے مقامی سیاست دان یا انتظامیہ ان کی مدد نہیں کر رہی جبکہ اس کے برعکس مسلمان متاثرین کو وہ امداد ملتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ’ ہم کھلے آسمان کے نیچے تپتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں، اس کی وجہ سے بچے بیمار ہو رہے ہیں‛۔

حکومت کی جانب سے اپیل نہ کرنے کے باعث اقوام متحدہ کا کوئی بھی ادارہ بدین کے لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے سامنے نہیں آیا۔ کڑیو گھنور شہر میں ہلال احمر رلیف میں مصروف ہے، مگر شنکر داس کو ان سے بھی شکایت ہے کہ وہ مقامی وڈیروں کی نشاندھی پر کام کر رہے ہیں۔

اسی دوران سندھ کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما اور کارکن کچھ خیمے اور دوائیں لیکر کیمپ پہنچے۔ .

عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما ابرار قاضی نے بتایا کہ جہاں جاتے ہیں حکومت کی برائی سننے میں آتی ہے، ان کی این جی اوز کے لوگوں سے بات ہوئی وہ کہتے ہیں کہ انہیں کام سے روکا گیا ہے۔
’ یہ شاید اس لیے کیا گیا ہے کہ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں سامان پہنچ رہا ہے اور نہیں؟ خاموش رکھنے کے لیے کسی ادارے کو آنے نیں دیا جارہا، ورنہ پندرہ لاکھ متاثرین کی مدد کے لیے تو حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہر ادارے اور فرد کی مدد حاصل کرے‛۔

کڑیو گھنور سے بدین جاتے ہوئے کئی ایسی گاڑیاں نظر آئیں جو سامان سے لدی ہوئی تھیں ان پر حکمران پیپلز پارٹی کا جھنڈہ لہرا رہا تھا۔ جب بدین شہر میں داخل ہوئے تو لاڑ میوزیم میں موجود پانی کے ٹینک، خیمے اور دیگر سامان سڑک سے نظر آگیا مگر ہر طرف سے متاثرین کی شکایت یہ ہے کہ انہیں کچھ نہیں مل رہا۔

Monday, March 7, 2011

امین خٹک ، ملنگ سیاسی ورکر

امین خٹک کے انتقال سے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی قیادت سے نظریاتی اور نچلے طبقے کے لوگوں کا اختتام ہوگیا ہے، اس اپر کلاس نے اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہوگی۔

سندھ میں پشتون قومپرست سیاست میں امین خٹک اہم مقام رکھتے تھے، ان کے سندھ کے ترقی پسندوں اور قوم پرستوں سے دیرینہ تعلقات تھے۔

امین خٹک کی پیدائش صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر نوشہرہ کے علاقے جلوزئی میں ہوئی، یہ علاقہ افغان پناہ گزین کی کیمپ کے باعث مشہور ہے۔

امین خٹک آٹھ جماعت پاس تھے اور روزگار کی تلاش میں کراچی آگئے جہاں سے انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ اور انیس سو چورانوے کو عوامی نینشل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری بنے اور دو سال بعد صوبائی صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

جنرل پرویز مشرف کے بھکاوے میں آکر جب اجمل خٹک نے عوامی نینشل پارٹی چھوڑ کر اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد ڈالی تو امین خٹک نے اس میں شمولیت اختیار کرلی مگر ان کے ساتھ زیادہ چل نہیں سکے اور دو ہزار تین میں عوامی نینشل پارٹی میں شامل ہوگئے جہاں انہیں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔

امین خٹک سنہ دو ہزار چھ میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اور آخری وقت تک اس عہدے پر فائز رہے۔

ترقی پسند خیالات کے پیروکار امین خٹک نے جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جیلوں میں بھی گئے اور کوڑے بھی کھائے، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جس کے باعث انہیں کارکنوں اور مزدوروں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

کراچی کی سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے اس سیاسی کارکن کی جماعت سے وابستہ لوگوں نے ترقی کی کئی منزلیں طئے کیں مگر امین خٹک آخری وقت تک پٹیل پاڑہ کے دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے اور بغیر کسی پروٹوکول اور محافظوں کے جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کیا کرتے۔

کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے جاری نسلی ہنگامہ آرائی میں جب زبان کی بنیاد پر لوگوں کو پکڑ کر ماردیا جاتا اس صورتحال میں امین خٹک ایک سافٹ ٹارگٹ تھے جو آسانی سے دستیب ہوسکتے تھے مگر شاید مخالفین بھی ان کے قدر دان تھے۔

نجی زندگی میں بھی وہ ایک کمیٹیڈ شخیصت رہے انہوں نے شادی نہیں کی اپنے محروم بھائی اور بہن کے بچوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ امین خٹک کی نمازے جنازہ پٹیل پاڑہ میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کی میت تدفین کے ان کے ابائی گاؤں روانہ کردی گئی ہے۔

گزشتہ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں تیسری سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی جس نے دو صوبائی نشتییں حاصل کیں، اکثر جماعتوں سے ملاقاتوں اور فیصلہ سازی میں امین خٹک نمائندگی کرتے تھے۔ انتقال سے تین روز قبل کراچی میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی۔

کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پر اب اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ حاوی ہیں مگر ان سب پر اپنی دانش اور سیاسی بصیرت کے باعث یہ ملنگ سیاسی ورکر حاوی رہا۔

Friday, March 4, 2011

کراچی آج خاموش ہے


ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی خاموش ہے، مگر آج اس کی خاموشی کی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ لاپتہ اور دکانوں کے شٹر گرے ہوئے ہیں۔
یہ خاموشی پہلی بار تو نہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل پر بھی اس نے چپ ساد لی تھی اور دو روز قبل اقلیتی وزیر شھباز شریف کے قتل پر بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے برابر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اس کے بعد انگریزی اخباروں کے کالموں اور انٹرنیٹ کی سوشل ویب سائیٹس پر گرما گرم بحث پر یہ سارے ترقی پسند ہاتھ سیکتے ہیں۔
روشنیوں کا شہر کراچی اپنی خاموشی تو اس وقت بھی نہیں توڑتا جب کسی تو نسلی یا فرقہ ورانہ یا مخالف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ٹارگٹ
بنایا جاتا ہے۔
ان واقعات پر خاموشی اور آج کی خاموشی میں تھوڑا فرق ہے آج اس میں احتجاج شامل ہے کیونکہ لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اور وہ یہ سمجھتے بھی ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ان گھر کے چولھے سے لیکر پوری زندگی پر بوجھ بڑھے گا مگر انہیں یہ کوئی نہیں سمجھانے والا کے پاکستان جو اسامہ اور ملا عمر کی پیروی پر چل نکلا ہے اس کے نتائج بھی کچھ ایسے ہی ہوں گے۔

Thursday, March 3, 2011

’دادو میں اب جادو نہیں ہے ʻ .

سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری نے کہا تھا کہ ’دادو میں ہے جادوʻ
مگر استاد بخاری یہ خواب اپنے ساتھ لیکر قبر میں چلے گئے۔آج ان کے نام سے شہر میں کالیج تو موجود ہے مگر جادو نہیں۔



پچھلے ہفتے دادو جانا ہوا ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور اٹھتی ہوئی دھول نے بازو پھیلا کر استقبال کیا، اس سے قبل بینظیر بھٹو کی شہادت کو تین ماہ ہونے کے بعد دادو سے گذر ہوا تھا اس وقت سوچا تھا کہ عوامی حکومت آنے سے یہاں کی صورتحال میں تبدیلی آئیگی کیونکہ ایم آر ڈی تحریک کے دوران اس ضلع کے لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے اسی مزاحمت پر اس علاقے کو سندھ کا ویتنام قرار دیا گیا۔



حالیہ سیلاب میں دادو کا شہر خیرپور ناتھن شاھ خاص طور پر متاثر ہوا ہے جہاں سیلاب کا پانی ڈیرا لگا کر رک گیا اور حکومتی دعواؤں کے باوجود اس کی نکاسی نہیں ہوسکی اور آخر سورج کی کرنوں نے پانی کا ایک ایک قطرہ سوکھا کر یہاں کے لوگوں کی زندگی کچھ قدر آرام دہ بنائی۔

دادو کے لوگ سیلاب کے دنوں کے دلچسپ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک ہی جماعت کے رکن اسمبلی کیسے دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر کسی کی کوشش تھی کہ وہ اپنے علاقے کو بچائے۔



سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے ایک بڑی تعداد غیر ملکی اداروں اور لوگوں کی پہنچ چکی ہے، مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ گورے بغیر کسی خوف خطرے کے رکشہ اور چنگچی میں چڑھ کر دادو میں گھومتے پھرتے ہیں۔ بعض نے تو ہاتھوں میں قلندری اور لاہوتی کڑے بھی پھن لیے ہیں، ملک کے تین صوبوں ان لوگوں کے لیے نوگو ایریا بن گئے ہیں اور سندھ ان کے لیے تفریح گاہ بن گئی، جس کی وجہ ظاہر ہے یہاں کے لوگوں کا مزاج اور خیال ہے ۔

دادو میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کونسا ادارہ کیا کر رہا ہے نہ تو مقامی انتظامیہ کو پتہ ہے نہ ہی لوگوں کو، کہیں بھی کوآرڈینیشن نظر نہیں آتا، ایک تنظیم نے سورج مکھی کے سیاہ بیج کسانوں میں تقسیم کیے ہیں یہ جانے بغیر کہ دادو کے گرم موسم میں یہ ہوں گے بھی یا نہیں کچھ لوگوں نے تو یہ بھی بتایا کہ بیج بہت آئے ہیں اور تنظیم کے کچھ لوگ اس کو فروخت کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

بین الاقوامی ترقیاتی ادارے نے کچے کے علاقے میں کئی سو لوگوں کو گھر تعمیر کرکے دیئے ہیں جو مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مٹی سے بنائے گئے ہیں جبکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ پکے گھر بنائے جائیں گے۔

قلندر شھباز اور لاہوتی فقیروں کی باعث صوفیانہ سوچ کی حامل دادو کی دیواروں پر اب ایسے نعرے بھی نظر آتے ہیں جو مذہبی انتھاپسندی کا پیغام دیتے ہیں کالعدم فرقہ ورانہ تنظیموں کے پوسٹر بھی واضح ہے صحافی دوستوں کا کہنا ہے کہ ابھی چند لوگوں کا ہی اس طرف رجحان ہے۔ مگر ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند سال پہلے تک ایسا کچھ نہیں تھا۔

روشنیوں کا شہر تو کراچی کو کہا جاتا ہے مگر اسٹریٹ لائیٹ کے پول دادو میں زیادہ نظر آتے ہیں اس کا راز جب میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس کام میں خرچہ کم اور منافعہ زیادہ ہے عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنی تمام توجہ اس طرف لگائی اور رقم رلیز ہونے سے قبل ہی کانٹریکٹر سے اپنا حصہ لے لیا اس قدر کہ ایک رکن اسمبلی نے اسکیم تو گیس کی فراہمی کی لی مگر بعد میں اسے اسٹریٹ لائیٹ میں تبدیل کرادیا اب ان پولوں میں بلب تو نہیں جلتے میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈے ضرور جھولتے ہیں۔