Wednesday, October 28, 2009

Riaz September 2009

Peacock extinction in Thar
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090922_picock_thar_sen.shtml

four prisoners die in Sindh jails

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090921_sindh_jails_sen.shtml
Ration takes life
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090917_khi_victim_families_zee.shtml
Stampede for free ration
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090915_khi_stampede_rh.shtml
Deaths for ration
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090914_atta_deaths.shtml

Riaz October 2009

Use of cell phone to detect crime
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090824_crime_mobile_nj.shtml

Helplessness after love marriage Saira Jatoi love story
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/02/090212_saira_ismail_sen.shtml

Art exhibition: Line of Control

http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/story/2009/02/090205_malani_artist_as.shtml

Five suspects of Qari Hussain Mehsud group of Lashkar Jhangvi arrrested
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091028_karachi_5arrested.shtml

Educational institutes closed
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091020_schools_closed.shtml

70 suspects Afghans arrested from sukkur

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091020_rangers_khi_arrest_rh.shtml

What PPP is loosing?
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091017_arif_baloch_sen.shtml

Pinto Hospital National heritage
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091013_bb_hospital_heritage_rh.shtml

Love couple allowed to go Islamabad
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091002_saira_jatoi_followup_rh.shtml

Flim Star Kamal dies
http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2009/10/091001_kamal_dead_rh.shtml

Special cell against Honour killing in 4 districts of Sindh
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090930_karo_kari.shtml

Friday, October 23, 2009

sample Profile and obituary

Profile
4. Kafeel Bhai:
http://www.bbc.co.uk/urdu/cricket/030228_cricket_kafeel.shtml

Obituary
1. Shehzadi Obit (July 13, 2003) with three photos
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030429_shehzadi_obit.shtml

2. Allama_Qasmi
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2003/12/031210_allama_qasmi_expires.shtml

3. Hameed Jatoi Obit
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/01/040111_hameedjatoi_ua.shtml

Sample Feature

BBC Stories By Riaz Sohail
Featurish

Feature: Doctors Bazar
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030813_doctor_bazaar_as.shtml

Feature: Mango Crisis 2003
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030518_mangoes_pakistani_as.shtml

Feature: Elicot - 29 February, 2004
-
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/02/040229_shia_convert_fz.shtml

Feature : Mangoes 2004

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/06/040612_mangoes_sohail_ms.shtml

Featurish : Sindhi Film Crisis
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/030713_sindhi_film_crisis_as.shtml

Featurish: Police Pagal:

http://www.bbc.co.uk/urdu/news/021127_mental_police.shtml


Featurish: Sindhi Mujahideen
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/021230_rayazsohail_atif.shtml

Featurish: Sindhi Press
http://www.bbc.co.uk/urdu/news/story/2003/10/031010_pak_journalists_uk.shtml

Featurish: Mazhia Mushaira
http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/story/2003/10/031029_humrous_poetry_as.shtml
http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/story/2003/10/031029_poetry_humour_as.shtml

Featurish: Mistri Marka FM Rdaio - March 4, 2004 - one pic
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/03/040304_jiey_sindh_uj.shtml

Featurish: Sindh Cyclone

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/05/040510_sindh_cyclone.shtml

Featurish: Thar Coal
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/06/040601_thar_nj.shtml

Featurish: On Foot March World record June, http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/06/040615_pakwprldrecord_nj.shtml

Tuesday, September 15, 2009

Qadir Bux Jatoi returns after 28 years exile


قادر جتوئی کی 28 سال بعد واپسی

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


جلاوطنی بدترین سزا ہے: قادر بخش جتوئی
سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی اٹھائیس سال کی جلاوطنی کے بعد جمعرات کی شب واپس وطن پہنچ ہیں۔
کراچی ائرپورٹ پر قومپرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کی قیادت اور کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ائرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں انہوں نے زمین کو چوما اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
اپنے مختصر خطاب میں قادر بخش جتوئی نے جلاوطنی کو بدترین سزا قرار دیا اور کہا کہ ان اٹھائیس سالوں میں ہر دن ان کے لیے عذاب کا دن تھا۔ وہ اپنے وطن پہنچ کر ایک نئی زندگی کا آعاز کریں گے اور یہ ’ان کا دوسرا جنم ہے۔‘
فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جلاوطن کیے گئے قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی کو سندھ ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں وطن واپس آنے کی اجازت دی تھی۔
اٹھائیس سال قبل پی آئی اے ہائی جیکنگ کیس میں قادر بخش جتوئی سمیت چون سیاسی کارکنوں کو ہائی جیکروں کے حوالے کیا گیا تھا۔
قادر بخش جتوئی پر الزام ہے کہ انہوں نے اکتوبر انیس سو اٹھہتر میں ساتھیوں سمیت جامشورو میں فوجی گاڑی پر حملہ کیا جس میں ایک فوجی سپاہی فضل ربی ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
پیپلز میڈیکل کالج میں ایک فوجی میجر کی جانب سے ایک طالبہ سے زیادتی کے خلاف جامشورو میں سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے طالب علموں نے جلوس نکالا تھا، جن کا فوجی اہلکاروں سے تصادم ہوگیا تھا۔
قادر بخش جتوئی اور حیدر شاہ کو جنوری انیس سو اکیاسی میں فوجی عدالت نے چودہ سال اور چوبیس سال کی سزا سنائی تھی۔
انیس سو اکیاسی میں پی آئی اے کے طیارے کو کراچی سے پشاور جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا۔ ہائی جیکروں نے مسافروں کے بدلے ایک سو چار سیاسی کارکن حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں فوجی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سیاسی کارکنوں میں سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی، حیدر شاہ اور سرفراز میمن بھی شامل تھے۔
قادر بخش جتوئی کے چھوٹے بھائی نذیر جتوئی نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے فوجی عدالت کی سزا اور انہیں ہائی جیکروں کے حوالے کرنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔

Code of conduct for animal hydes

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081208_karachi_skin_code_ra.shtml


کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


مختلف جماعتوں نےقربانی کی کھالیں حاصل کرنے کے لیے اشتہارات بھی دیے ہیں
سندھ کے محکمہ داخلہ نے کراچی میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔
سندھ محکمہ داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحیٰ پر مختلف مذہبی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور رفاعی ادارے پورے شہر میں قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کریں۔
’اس صورتحال میں کھالیں جمع کرنے والوں کے درمیان سخت مقابلے کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو بعض اوقات تصادم کی شکل اختیار کرجاتی ہے اور بڑے پیمانے پر نقض امن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔‘
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کھالیں جمع کرنے کے لیے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا، صرف ان جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت دی جائے گی جو رجسٹرڈ ہیں اور ضابطہ اخلاق پر دستخط کریں گے۔
کھالیں جمع کرنے کے کیمپ لگانے، گاڑیوں پر لاوڈ اسپیکر لگا کر یا مساجد اور دفاتر سے کسی قسم کے اعلانات اور گھر گھر جاکر زبردستی کھالیں جمع کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
کھالیں جمع کرنے والے اداروں تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جب ان کے کارکن کھالیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کریں تو ان کے پاس قومی شناختی کارڈ، ادارے کا کارڈ اور محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے اجازت نامے کی نقل موجود ہونی چاہئیے، بصورت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حق ہوگا کہ یہ کھالیں ضبط کرلیں۔
عید کے تین روز تک کسی بھی قسم کا اسلحہ ، ڈنڈے، لاٹھی یا سلاخیں لیکر چلنے پر پابندی ہوگی۔ اس پابندی کا اطلاق لائسنس یافتہ اسلحے پر بھی ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق اس حکم کے نفاذ کے لیے قانون والے ادارے جگہ جگہ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو روک کر گاڑیاں چیک کریں گے اور تلاشی لیں گے۔
کراچی میں امن و امان کی انتظامات کی لیے پولیس اور رینجرز نے مختلف علاقوں کا فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

Film distributor Satish Anand 's kidnappers

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090128_satish_kidnapping_probe.shtml

ستیش آنند کے اغواکار کون؟

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


ستیش آنند کو گزشتہ بیس اکتوبر کو اغوا کیا گیا
کراچی سے اغوا کیے گئے پاکستان کے نامور فلم ساز اور ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند ساڑھےتین ماہ بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکے ہیں، جبکہ پولیس اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔
ستیش آنند کو گزشتہ سال بیس اکتوبر کو اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا، جب وہ اپنے گھر سے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اپنے دفتر جا رہے تھے۔
وہ شہر کے پوش علاقے ڈیفینس فیز ٹو میں بیوی، تین بیٹیوں اور والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
تین ماہ گزرنے کے بعد بھی پولیس اور حکام اغوا میں ملوث گروہ کی شناخت اور بازیابی کے لئے بظاہر کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سٹیزن پولیس لیئزوں کمیٹی کے سربراہ شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے، کسی مذہبی گروہ کے ملوث ہونے کی اطلاعات کی وہ تصدیق اور تردید نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے طور پر کام کر رہی ہے مگر اس وقت کچھ بتانا مناسب نہیں ہوگا۔
پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت
ستیش آنند پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کے والد جے سن آنند بھی اس صنعت سے وابستہ تھے۔ وہ ایور ریڈی پکچرز کے مالک ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ’بینکاک کے چور، راجو بن گیا جنٹلمین، ہاتھی میرے ساتھی اور کہیں پیار نہ ہوجائے‘ جیسی کامیاب فلمیں دی۔

ستیش آنند کے خاندان نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کی بیٹی سلینا کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کو کچھ نہیں بتا سکتے۔
ستیش کے اغوا نے کراچی میں کاروبار سے منسلک ہندو کمیونٹی میں بھی غیریقینی اور عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ پاکستان ہندو کاؤنسل کے رہنما رمیش کمار کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے حکومت اور ستیش کے خاندان سے رابطہ کیا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو وہ زیادہ اچھالنا نہیں چاہتے، ہوسکتا ہے کہ خاندان خوف زدہ ہو کیونکہ وہ ان سے روبرو مل نہیں سکے ہیں۔
رمیش کمار کے مطابق مگر پولیس افسر سے جو بات ہوئی ہے اس سے انہیں شک ہے کہ اس میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں مگر انہیں کبھی اس بارے میں کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے۔
ستیش آنند پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کے والد جے سن آنند بھی اس صنعت سے وابستہ تھے۔ وہ ایور ریڈی پکچرز کے مالک ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ’بینکاک کے چور، راجو بن گیا جنٹلمین، ہاتھی میرے ساتھی اور کہیں پیار نہ ہوجائے‘ جیسی کامیاب فلمیں دی۔
ستیش کے اغوا کے بعد لاہور میں ان کے دفتر کو بھی خالی کرادیا گیا ہے۔ ان کے ایک دوست مرزا اختیار بیگ کا کہنا ہے کہ عدالت نے ستیش کے حق میں حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا۔
مگر ان کے اغوا کے بعد مالک نے موقع جان کر ان کا ویئر ہاؤس خالی کردایا اور اس میں موجود پرانی فلمیں اپنے ساتھ اٹھاکر لے گیا ہے۔ ’یہ فلمیں پاکستان کا ورثہ ہیں انہیں ان کے خاندان کو واپس دلایا جائے۔‘
مرزا اختیار بیگ جو پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ ان کا کچھ اداروں سے رابطہ ہوا ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ستیش جلد رہا ہوجائیں گے۔ اس بارے میں انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
پاکستان میں بھارتی اداکاروں اور اداکاراؤں کی آمد اور پاکستان کے اداکاروں کی بھارتی ٹی وی چینلز اور دیگر پروگرام میں شرکت میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ نامور بھارتی اداکارہ اور فلم ڈائریکٹر جوہی چاولہ کے قریبی رشتے دار ہیں۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مشیر داخلہ رحمان ملک کو ستیش آنند کی بازیابی کی ہدایت کی تھی مگر ان کی ہدایت پر بھی عمل نہیں ہوسکا ہے۔

Love marriage, but miserable life


محبت کی شادی، بے بسی کی زندگی

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


سائرہ جتوئی اور ان کے تیس سالہ شوہر اسماعیل سومرو گزشتہ سات ماہ سے پولیس کی حفاظت میں ہیں
سکھر کی سائرہ جتوئی نے اپنا کل اثاثہ سونے کی انگوٹھی بھی بیچ دی ہے، ان کا کہنا ہے اس انگوٹھی کے بدلے ملنے والے رقم میں سے وہ بچے کے لیے روزانہ دس روپے کا دودھ خریدتی ہیں اور اس میں اتنا پانی ڈالا جاتا ہے کہ ایک دن چل جائے۔ مگراب ان پیسوں میں سے بھی صرف دو سو روپے رہ گئے ہیں۔
بائیس سالہ سائرہ جتوئی اور ان کے تیس سالہ شوہر اسماعیل سومرو گزشتہ سات ماہ سے پولیس کی حفاظت میں ہیں جہاں ان کے باہر جانے اور ان سے کسی کی ملاقات پر پابندی ہے، سائرہ اور اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔سائرہ نے تقریباً ایک برس قبل جتوئی قبیلے اور والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند کے نوجوان اسماعیل سومرو سے شادی کرلی تھی۔ جتوئی قبیلے نے سائرہ کو کاری قرار دے دیا اور ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا، مگر پولیس کے کارروائی کی وجہ سے دونوں کی زندگی بچ گئی۔
دونوں کو تحفظ کے لیے کراچی منتقل کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں پولیس کینٹین کے برابر ایک کمرے میں رہائش فراہم کی گئی۔
سائرہ جتوئی کا کہنا ہے کہ جو انہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ تو آزاد گھوم رہے ہیں مگر وہ قیدیوں جیسی زندگی گذار رہے ہیں۔ اسی عرصے میں سائرہ جتوئی کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اسے اچھی خوراک فراہم کی جائے۔
ان کے کمرے کے باہر دو سپاہی ہر وقت موجود ہیں، اسماعیل سومرو کا کہنا ہے کہ مرد پولیس والوں کی وجہ سے ہر وقت بے پردگی ہوتی ہے۔ واش روم بھی وہیں پر ہے وہاں جانے کے لیے بھی ان کے سامنے سے گذرنا پڑتا ہے۔
تحفظ میں بے بسی
کمرے کے باہر دو سپاہی ہر وقت موجود رہتے ہیں، مرد پولیس والوں کی وجہ سے ہر وقت بے پردگی ہوتی ہے۔ واش روم بھی وہیں پر ہے وہاں جانے کے لیے بھی ان کے سامنے سے گذرنا پڑتا ہے

اسماعیل سومرو اسماعیل سومرو کے مطابق رات کو بارہ بجے تک کینٹین میں ٹیلیوژن چلتا ہے، جس وجہ سے ان کا بچہ سو بھی نہیں سکتا ہے۔
سائرہ کا کہنا ہے کہ رشتے دار اور قبیلے والے ان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اب ان کی نظریں صرف حکومت پر ہیں ان کی جان بچائی جائے وہ ان ظالموں کے ہاتھوں قتل نہیں ہونا چاہتی، وہ ایک مرتبہ تو ان کے ہاتھوں بچ گئی ہیں واپس نہیں جانا چاہتی۔
وہ اپنے پانچ ماہ کے بیٹے حسنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس معصوم کو اب کہا چھپاؤں اسے کھلا ماحول چاہیے مگر جب سے پیدا ہوا ہے یہ بھی قیدی کی زندگی گذار رہا ہے۔
اسماعیل اور سائرہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، انہیں کوئی ملک پناہ دے۔ سائرہ کے مطابق سرداروں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ جب تک ان کو سزا نہیں دیں گے سکون کا سانس نہیں لیں گے۔
’وہ کہتے ہیں کب تک پولیس کے پہرے میں رہو گی؟ آخر رہنا تو تمہیں پاکستان میں ہے؟ کیا تمہارا شوہر کام پر نہیں جائے گا؟ یا بچہ اسکول نہیں جائے گا؟ دیکھتے ہیں کب تک زندہ رہتے ہو‘۔ میں تو گھر میں رہ لوں گی مگر ان کو کہاں چھپاؤں، ہر وقت یہ خوف رہے گا کہ واپس آئیں گے یا نہیں۔
خواتین کے امور کی صوبائی وزیر توقیر فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ دو قبیلوں کے درمیان تصادم نہ ہو اس لیے حکومت نے دونوں کو تحفظ تو فراہم کیا ہے مگر اگر کوئی جوڑا یہ کہتا ہے کہ انہیں بیرون بھیجا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھانے کے حوالے سے شکایت درست نہیں ہے ملاقات پر اس لیے پابندی ہے کیونکہ اس میں ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ کچھ عرصہ اور انہیں ایسے رکھا جائے گا پھر کسی نامعلوم جگہ وہ جاسکتے ہیں۔
اس صورتحال میں جہاں اسماعیل اور ان کی بیگم سائرہ پریشانی اور اذیت کی زندگی گذار رہے ہیں وہاں ان کے گھر کی خواتین بھی اسی کرب سے گذر رہی ہیں، اسماعیل جو پہلے ہی شادی شدہ تھے ان کی بیوی نے خلع لے لی، جبکہ اغوا کی دھمکیوں کے بعد اسماعیل کی دو چھوٹی بہنوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
سائرہ کے گھر سے نکلنے کے بعد ان کی دو چھوٹی بہنوں کے رشتے ان کے قریبی رشتے داروں میں طے کردیے گئے ہیں، ان دونوں لڑکیوں کی عمریں چودہ اور پندرہ سال ہے۔
اسماعیل سومرو سکھر میں ویڈیو کیمرہ مین تھے اور ان کی سائرہ سے ملاقات ایک شادی کی تقریب میں ہوئی، جس کے بعد محبت کا یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا، اور سائرہ کے کہنے پر دونوں گھر چھوڑ کر کراچی آگئے۔ خاندان کی کچھ خواتین کے اغوا کے بعد اسماعیل سائرہ کو لیکر واپس سکھر پہنچے جہاں دونوں مقامی سرداروں کی قید میں رہے۔
خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں
ہم پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کہیں اور پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرداروں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ جب تک ہمیں سزا نہیں دیں گے سکون کا سانس نہیں لیں گے

اسماعیل اور سائرہ پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی اور جتوئی قبیلے کے سردار عابد جتوئی اور سردار جنید سومرو کے خلاف سائرہ اور اسماعیل کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا مگر دونوں نے ہی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔
اسماعیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سائرہ کے رشتے کے لیے والدین کو بھیجا تھا مگر سائرہ کے والدین نے صاف انکار کردیا، انہوں نے تصور نہیں کیا تھا کہ صورتحال اس قدر بگڑ جائے مگر امید ضرور تھی کہ مسئلہ کسی طریقے سے حل ہوجائے گا، مگر اب غیر یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہے گئے ہیں۔

ہنگلاج کے قریب ڈیم: ہندو فکرمند

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/03/090302_hindu_pilgrims_ka.shtml

ہنگلاج مندر کا شمار دنیا میں ہندوؤں کے مقدس عبادت گاہ کے طور پر ہوتا ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع دنیا بھر کے ہندؤں کی مقدس عبادت گاہ ہنگلاج کے قریب ندی پر ڈیم بنانے کے حکومت کے منصوبے سے ہندو کمیوٹنی میں تشویش پائی جاتی ہے۔
واپڈا(واٹر اینڈ پاور ڈیلوپمنٹ اتھارٹی) کی جانب سے ہنگول ندی پر ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے نوے ہزار ایکڑ بارانی زمین آباد ہوگی اور سات سو اڑتیس میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔
ہر سال اپریل میں ہنگلاج کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے، پرانے دور میں لوگ جنگلوں، پہاڑوں اور ویرانوں سے گذر کر یہاں پہنچتے تھے۔ اب یہاں سڑک کی سہولت موجود ہے مگر بارشوں کے بعد ہنگول ندی میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے یہ راستہ کٹ جاتا ہے اور پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پانی میں کمی کا انتظار کرتے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے پہاڑی سلسلے میں ہنگلاج کے مقامات مسلمانوں کے لیے نانی پیر کا آستانہ اور ہندوؤں کے لیے ہنگلاج ماتا اور کالی دیوی کا آستھان ہے۔
ان تمام مناظروں اور یاترا کو مستقبل میں خطرات لاحق ہیں۔ لیکن واپڈا کے اس منصوبے نے مقامی لوگوں اور ہندؤں میں بے چینی پیدا کردی ہے ۔
ہنگلاج شیوا منڈلی کے چیف آرگنائزر ویرسی مل کا کہنا ہے کہ’بھارت میں موجود چار دام یاترا کی بھی وہ افادیت یا حیثیت نہیں جب تک ہنگلاج یاترا نہیں کی جاتی۔ اس جگہ ہنگلاج یاترا کے ساتھ منڈ کٹا گنیش، اور کالی ماتا کا آستھان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ‘
سکھوں کے مذہبی رہنما بابا گرونانک اور سندھی زبان کے نامور اور بزرگ شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی یہاں حاضری دے چکے ہیں۔
ناممکن
اگر منتقلی ممکن ہوتی تو اسے کراچی منتقل نہیں کرلیتے ، ہزاروں لوگ جو کئی کلومیٹر کا سفر طئے کرکے یہاں آتے ہیں کیا ان کے گھر یا علاقے میں مندر نہیں ہے،اس جگہ اور مقام کی اہمیت اور حیثیت ہے۔ ہم اس کی منتقلی کے بارے میں صرف سوچیں تو بھی گناہ گار ہوتے ہیں

ویرسی ملواپڈا کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لئے تین آپشن دیئے گئے ہیں ہندو کمیونٹی کہنا ہے کہ تینوں آپشن ناقابل قبول ہیں۔کیونکہ اس منصوبے سے ان کی یاترائیں زیر آب آْجائیں گی۔
واپڈا کی رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہندو کمیونٹی کے ان صدیوں پرانے مقدس مقامات کو دوسرے جگہ منتقل کیا جائے۔ ہنگلاج شیوا منڈلی کے چیف آرگنائزر ویرسی مل اس تجویز کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہیں۔’ اگر منتقلی ممکن ہوتی تو اسے کراچی منتقل نہیں کرلیتے ، ہزاروں لوگ جو کئی کلومیٹر کا سفر طئے کرکے یہاں آتے ہیں کیا ان کے گھر یا علاقے میں مندر نہیں ہے،اس جگہ اور مقام کی اہمیت اور حیثیت ہے۔ ہم اس کی منتقلی کے بارے میں صرف سوچیں تو بھی گناہ گار ہوتے ہیں‘۔
تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی اراکین اسمبلی پہلی مرتبہ کسی معاملے پر متفق نظر آتے ہیں، پچھلے دنوں ان اراکین نے علاقے کا دورہ کیا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
رکن قومی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر کشن چند پاروانی کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نہیں مذہبی معاملہ ہے ۔ نہ تو اسے سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور نہ ہی منصوبہ بندی سے پہلے ہندو کمیونٹی کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ ’ یہ لوگ ہمیشہ ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہندو کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا مگر یہ تحفظ کرنا تو نہیں ہوا۔ یہ تو مذہبی جذبات سے کھیلنے کے مترداف ہے‘۔
واپڈا کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کی تجویز پرڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر پچھلے دنوں بلوچستان اسمبلی نے متفقہ رائے سے قرار داد منظور کرکے موجود سائیٹ پر ڈیم بنانے کی مخالفت کی اور ہندو کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کیا۔
بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی سردار اسلم بزنجو کہتے ہیں کہ مذہبی حوالے سے یہ مندر اہمیت کا حامل ہے۔ ہم نے واپڈا کو کہا ہے کہ ہم نے ڈیم بنانے کے لئے ضرور کہا ہے مگر اس سے ہنگلاج ماتا کی یاترا کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیئے۔
ہندو کمیونٹی کے انجنیئر مہرو مل کا کہنا ہے وہ ڈیم کے خلاف نہیں ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیم بننے سے علاقے میں خوشحالی آئیگی۔
رکن قومی اسمبلی اور صوبائی وزیر کشن چند کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نہیں مذہبی معاملہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ واپڈا صرف اپنی فزیبلٹی رپورٹ پر نظر ثانی کرے۔’ہنگول ندی پر تین ایسے مقامات ہیں جن پر ڈیم کی تعمیر ہوسکتی ہے، ان میں ایک پھول ڈاٹ سائٹ ہے، دوسری جبل ہنگلاج اور تیسری شام کور سائیٹ ہے یہ تینوں مقامات اپ اسٹریم میں ہیں جہاں ڈیم بننے سے لاگت میں بھی اضافہ نہیں ہوگا اور ڈیم کی گنجائش بھی زیادہ ہوگی۔‘
کوہ ہنگلاج اور ہنگول ندی تاریخی اہمیت کی بھی حامل ہے سکندراعظم نے بھی یہاں قیام کیا تھا، بھارتی ریاستوں راجستھان اور گجرات کے رجپوت گھرانے کے حکمران خاص طور پر یہ یاترا کرتے رہے ہیں۔ اسی روایت کے تحت بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ بھی تین سال قبل یہ یاترا کرنے آئے تھے۔
وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادتوں گاہوں کے تحفظ کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے۔
اس ڈیم سے ہنگلاج یاترا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اگر ایسا ہوا تو ڈیم کی تعمیر نہیں کی جائے گی، جب ان سے سوال کیا گیا کے کیا حکومت یہ اعلان کر رہ ی ہے کہ اس مقام پر ڈیم کی تعمیر نہیں ہوگی تو ان کا کہنا تھا وہ یہ نہیں کہہ رہے ، ہندوں کے خدشات دور کیئے جائیں گے۔
واپڈا پاکستان میں ایک طاقتور محکمہ تصور کیا جاتا ہے۔ چھوٹے صوبوں کا یہ بھی الزام ہے کہ اس ادارے کو ان کے استحصال کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ان کا اشارہ ان ڈیموں اور کینالوں کی طرف ہوتا ہے جو خلاف قائدہ ان کی مرضی کے بغیر دریائے سندھ پر بنائے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں ان ہندوں کی کتنی شنوائی ہوتی ہے۔
ہنگلاج مندر کے پاس بہتی اس ندی پر ڈیم بنانے کے منصوبے سے ہندو ناراض ہیں۔

Nawaz Sharif contacts nationalists in Sindh


نواز لیگ کے قوم پرستوں سے رابطہ

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/03/090304_pmln_sindhi_nationalists_uk.shtml
پی ایم ایل این نے جیے سندھ کے رہنماوں کے علاوہ ممتاز بھٹو سے بھی رابطہ کیا ہے
مسلم لیگ نون نے سندھ میں حمایت کے لیے قوم پرستوں سے رابطے کیے ہیں اور ان سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جاری تحریک کی حمایت اور مدد کے لیے کہا ہے ۔ان میں زیادہ تر وہ سیاستدان ہیں جو روایتی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف رہے ہیں۔
مسلم لیگ نون کے رہنما میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے خلاف کراچی میں تو کچھ احتجاج نظر آیا مگر اندرون سندھ کوئی موثر احتجاج نہیں ہوسکا، جس کی وجہ تجزیہ نگار مسلم لیگ نون کی سندھ کے اندر تنظیمی طور پر غیر موجودگی بتاتے ہیں۔
مسلم لیگ نون کے رہنما سردار رحیم اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سندھ میں بھی مقبول ہے، یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نو سال تک اسے دیوار اسے لگایا گیا اور اسے کچلنے کی کوشش کی گئی، تنظیم کو توڑنے کی کوشش ہوئی، جو سرکردہ لوگ تھے ان کی خرید فروخت کا بازار لگایا گیا اس صورتحال کے باوجود اس کی حیثیت اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ برقرار رہا، اس نے ایک زندہ جماعت کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
مسلم لیگ نون نے سندھ کے قوم پرست رہنماوں ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو اور جیے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ سے رابطے کیے ہیں جنہوں نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ تمام جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالف موقف رکھتی ہیں۔
ممتاز بھٹو جنہیں گزشتہ دنوں گرفتار بھی کیا گیا تھا مسلم لیگ نون سے مستقل رابطے جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بنیادی اصول اور نکات ہیں اس پر ہم آہنگی ہے، آگے چل کر مزید ملاقاتیں ہوسکتی ہیں، جن میں تفصیل سے لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق دونوں جماعتوں میں اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ موجودہ صورتحال قابل برداشت نہیں ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جو سنجیدہ مخلص اور اصول پسند نظریاتی اور سیاسی جماعتیں ہیں انہیں اکٹھا ہونا چاہیے۔
کالا باغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر، قومی مالیاتی ایوارڈ، صوبائی خود مختاری جیسے معاملات پر سندھ میں پنجاب مخالف جذبات رہے ہیں۔ یہ ہی نکات پی پی پی اور قوم پرستوں کے درمیاں قربت کا سبب رہے اور مشرف دور حکومت میں ان پر مشترکہ جدوجہد کی گئی مگر پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ان کی راہیں جدا ہوگئیں ۔
عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کالاباغ ڈیم کے معاملے پر نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جب دیکھا کہ سارا سندھ اس منصوبے کے خلاف ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک سندھ متفق نہیں ہوتا اس ڈیم کو نہیں بنایا جائےگا جس پر وہ قائم رہے۔ وہ کہتے ہیں’سندھ وڈیروں کی نہیں ہے عوام کی ملکیت ہے، سندھ میں بہت شعور ہے سندھی کئی سال پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں وہ نواز شریف کا سندھ میں خیرمقدم کرتے ہیں وہ یہاں اپنی سیاست جاری رکھیں‘۔
ان کے مطابق وہ اگر وفاقی سطح پر پرامن جمہوری سیاست کرتے ہیں تو یہ گناہ ہوگیا اور کہتے ہیں کہ ہم وفاقی جماعت ہیں تو کیا عوام کو وفاقی سیاست کرنے کا حق نہیں ہے؟
سندھ کی دیگر دو قوم پرست جماعتوں جیے سندھ قومی محاذ اور جیے سندھ ترقی پسند پارٹی نے مسلم لیگ نون کی حمایت یا مدد سے انکار کیا ہے، ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اے پی ڈی ایم کے فیصلے پر بھی عمل پیرا نہیں ہوئے تھے وہ کسی کواقتدار تک پہنچانے کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے۔
ماضی میں مسلم لیگ نون کو سندھ کی قوم پرست جماعتوں میں سے ہی قیادت ملی ہے، عوامی تحریک کے مرحوم رہنما فاضل راہو کے بیٹے اسماعیل راہو اور حمیدہ کھوڑو یا پھر قوم پرست رہنما عبدالحمید جتوئی کے بیٹے لیاقت جتوئی قوم پرست جماعتوں سے ہی مسلم لیگ کی صفوں میں شامل ہوئے۔
شریف برادران کو نااہل قرار دینے کے فیصلے پر ابھی پنجاب میں احتجاج جاری تھا اور ان کے لیے ہمدری میں اضافہ ہو رہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی تصاویر نذر آتش ہونے کے واقعات رونما ہوئے اور دوسرے روز مسلم لیگ نون کی قیادت نے اس کو صوبائی معاملہ بناکر صوبائیت کی لکیریں کھینچ ڈالیں اور یہ تقاریر سننے میں آئیں کہ نااہلی کا فیصلہ پنجاب کے منہ پر چانٹا ہے۔
شریف برادران کو نااہل قرار دینے کے فیصلے پر ابھی پنجاب میں احتجاج جاری تھا اور ان کے لیے ہمدری میں اضافہ ہو رہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی تصاویر نذر آتش ہونے کے واقعات رونما ہوئے اور دوسرے روز مسلم لیگ نون کی قیادت نے اس کو صوبائی معاملہ بناکر صوبائیت کی لکیریں کھینچ ڈالیں اور یہ تقاریر سننے میں آئیں کہ نااہلی کا فیصلہ پنجاب کے منہ پر چانٹا ہے

سندھ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار جی این مغل کا کہنا ہے کہ ان نعروں اور تقاریر سے مسلم لیگ نون کو پنجاب میں فائدہ پہنچا مگر دیگر صوبوں میں اس کے برعکس اثر ہوا ہے۔ ان باتوں نے سندھ کی عوام کی سیاسی نفسیات پر اثر ڈالا۔
تجزیہ نگار جی این مغل کہتے ہیں :’اس کے بعد مسلم لیگ نون نے سندھ کی قوم پرست قوتوں سے رابطہ کیا اس سے مثبت اثر یہ ہوگا کہ جو سندھ اور پنجاب میں خلیج بڑھ رہی تھی وہ رک جائے گی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں ان قوم پرست گروپس کو اتنی پذیرائی حاصل نہیں ہے جس وجہ سے مسلم لیگ نون کو ایک علامتی حمایت حاصل ہوگی کیونکہ سندھ کے عوام کی سیاسی حمایت پیپلز پارٹی کو حاصل رہی ہے۔‘
میاں نواز شریف نے وطن واپسی کے بعد کراچی کے دورے تو کیے مگر اندرون سندھ کے کسی اور شہر کا دورہ نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے انہوں نے صوبائی قیادت کے مشورے پر تین مارچ سے سندھ کے دورے کا اعلان کیا مگر بعد میں اس سےے موخر کردیا۔ قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو اس کو نواز شریف کی غلطی قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں سندھ کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔
اس عرصے میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اندرون سندھ اور ایم کیو ایم کراچی میں اجتماع کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرچکی ہیں۔ مسلم لیگ نون نے جمعہ کو سندھ میں ہڑتال کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس کے لیے بھی اس کی نظریں قوم پرستوں پر ہیں ۔

Head money for 24 terrorists


سندھ میں دہشت گردوں پر انعامات

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/08/050825_terror_rewards_sen.shtml

سندھ حکومت نے فرقہ واریت اور دہشتگردی میں ملوث چوبیس ملزمان کی گرفتاری پر ایک کروڑ بیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ملزمان میں سے دو کا تعلق القاعدہ، آٹھ کا جنداللہ گروپ اور آٹھ کا لشکر جھنگوی سے ہے۔
صوبائی حکومت کے اعلامیے کے مطابق چوبیس ملزمان میں سے ہر ایک کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ انعام رکھا گیا ہے۔ جن کے بارے میں اطلاع دینے والے شہری کو یہ انعام ملےگا جب کہ اس کا نام راز میں رکھا جائے گا۔
ملزمان میں سے قاری شہزاد اور قاری ظفر کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ جبکہ اظہر علی ولد منور علی کا تعلق تحریک جعفریہ سے بتایا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق چوبیس ملزمان میں سے احسان اللہ ولد نجیب اللہ، حبیب اللہ خٹک ولد امان للہ، محمد خضر جمال ولد محمد طاہر جمال، جنید عرف جبران عرف جمشید کا تعلق حرکت المجاہدین العالمی سے ہے۔ جبکہ استاد محمد یاسین عرف استاد عرف عثمیٰ اور منصور عرف چھوٹا ابراہیم حرکت الجہاد اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں۔
ملزمان میں سے طیب داد خان عرف ساد عرف کاشف، محمد قاسم عرف حمزہ۔ سید کاشف علی شاھ ۔بلال۔حمد اور شہاب کا تعلق جنداللہ گروپ سے ہے۔
سندھ حکومت کو مطلوب ان ملزمان میں قاری جمیل برنی عرف قاری صاحب، فہد عرف قاسم، حافظ قاسم رشید عرف گنجا، مقصود عرف فیصل، محمد علی عرف اختر، ریاض افغانی عرف گلگتی، کاشف عرف شاہین اور شوکت سردار کا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے۔ جن میں آصف چھوٹو گروپ، مفتی عید محمد گروپ، عبدل دجنا اور آصف رمزی گروپ کے کارکن شامل ہیں۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے مطلوب ملزم کور کمانڈر کے قافلے، امریکی قونصلیٹ، پی اے سی سی اور ٹرینٹی چرچ پر حملوں اور بم دھماکوں گلستان جوہر تھانے پر حملے اور علما کے قتل میں ملوث ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/03/090310_tortoise_kar_sen.shtml


کچھوؤں اور گوشت کی سمگلنگ

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


انگور اور سیبوں کے باغات ان کچھوؤں کا مسکن ہوتے ہیں
چین اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں میٹھے پانی کے کچھوں کی طلب میں اضافے کی وجہ سے پاکستان سے ان کچھوں اور ان کے گوشت کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور کراچی اس تجارت کا مرکز بن گیا ہے۔
کراچی میں گزشتہ دنوں کوئٹہ سے بذریعہ ٹرین اسمگل کیے گئے پانچ سو کچھوے پکڑے گئے، کچھوں کی یہ قسم کوئٹہ اور آس پاس میں پائی جاتی ہے اور انگور اور سیبوں کے باغات ان کا مسکن ہوتے ہیں۔ محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق اس نسل کے کچھوے سندھ کے پہاڑی سلسلے کھیر تھر میں بھی پائے جاتے تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی پولیس نے بولان میل ٹرین سے میٹھے پانی کے کچھوں کا سترہ کلو سوکھا گوشت پکڑا ہے۔ گزشتہ سال بھی محکمہ جنگلی حیات ایسی بائیس سے زائد کارروایوں میں بیس تاجروں کو گرفتار کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق میٹھے پانی کے یہ کچھوے تھائی لینڈ، سنگاپور،ہانگ کانگ، ساؤتھ کوریا، چائنا، ویتنام اور تائیوان سمگل کیے جاتے ہیں جہاں کچھوے کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے اور اس کی مانگ میں اس قدر اضافہ ہوچکاہے کہ اسے مقامی وسائل سے پورا کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبیلو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام اکبر کا کہنا ہے کہ کراچی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اسمگلر ملک بھر سے یہ کچھوے پکڑ کر یہاں لاتے ہیں اور ان کا گوشت نکال کر اوپر فش لکھ دیتے ہیں، کراچی سے بڑے پیمانے پر مچھلی کی ایکسپورٹ ہوتی ہے اس لیئے پتہ نہیں چلتا کہ یہ واقع مچھلی ہے یا کچھوں کا گوشت ۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ایئرپورٹ پر کسٹم، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی چیکنگ زیادہ ہوتی ہے اس لیئے اسمگلر سمندر کا روٹ اختیار کرتے ہیں۔
صوبہ سندھ میں کشمور سے لیکر کیٹی بندر تک میٹھے پانی کے کچھوے پائے جاتے ہیں، ڈبیلو ڈبلیو ایف کے مطابق اندرون سندھ ان کچھوں کو پکڑنے میں مچھرے بھی شریک ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں منظم گروہ ملوث ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر حسین بخش بھاگت کا کہنا ہے کہ دلال عام لوگوں سے ایک سے دو سو روپے فی کچھوا خریدتے ہیں، چار پانچ کچھوں میں سے ایک کلو گرام گوشت نکل آتا ہے جو چار پانچ ہزار رپوں میں تاجر کو فروخت کیا جاتا ہے اگر کامیابی سے بیرون ملک منتقل ہوجائے تو تیس سے پنتیس ہزار روپے فی کلو تک فروخت ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کسی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیئے یہ کچھوے رات کی تاریکی میں پکڑے جاتے ہیں، جنہیں فوری ہلاک کرکے گوشت نکال کر سوکھا دیا جاتا ہے۔
کراچی میں گھروں، ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر جو مچھلی گھر بنائے جاتے ہیں ان میں رنگی برنگی مچھلیوں کے ساتھ کچھوے بھی رکھے جاتے ہیں۔
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ اور برنس روڈ سمیت کئی علاقوں میں ان کچھوں کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے، جہاں پر ایک سو سے لے کر ایک ہزار روپے تک مختلف سائز اور اقسام کے کچھوے فروخت ہوتے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر حسین بخش بھاگت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کچھوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی ہے، یہ کچھوا میٹھے پانی کا ہے سمندر کا یا خشکی کا یہ سوچے سمجھے پانی میں رکھے دیا جاتا ہے جہاں انہیں آکسیجن تو ملتی ہے مگر زیادہ عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے زیادہ دن زندہ نہیں رہے سکتا۔
کراچی اور بلوچستان کا ساحلی علاقہ سمندی کچھوں کا بڑا مسکن ہے مگر اسمگل ہونے والے کچھوں میں زیادہ تر میٹھے پانی کے ہوتے ہیں ۔
محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو پسماندہ ہے وہاں امن امان کا بھی مسئلہ رہتا ہے اور ان کے محکمے کے پاس اتنی افرادی قوت اور وسائل نہیں ہے اس لیئے زیادہ موثر کارروائی نہیں ہوتی۔
اس کاروبار کے فروغ پانے کی ایک بڑی وجہ غربت اور بیروزگاری ہے جس وجہ سے لوگ ان کچھوں کو پکڑ کر بیچتے ہیں مگر ان وجوہات کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈاکٹر اکبر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ کچھوے کا تحفظ کیوں کیا جائے ان کا خیال ہے کہ کچھوہ ہی تو ہے اگر پکڑیں گے چار پیسے مل جائیں اس لئے لوگوں میں اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ اور بلوچستان میں تمام ہی اقسام کے کچھوے پکڑنے، رکھنے اور ان کی فروخت پر مکمل پابندی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے قانون کے مطابق اس جرم کے مرتکب لوگوں کو اکثر جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ان جرمانوں میں اضافے اور قید کی سزا بھی شامل کی جائے تاکہ قانون پر عمل درآمد بہتر طریقے سے ممکن ہوسکے۔

Shortage of transport for releif goods


’سامان ہے، ترسیل کے ذرائع نہیں‘

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/10/051011_khi_relief_zs.shtml

کراچی کے عوام نے زلزلے کے متاثرین کی دل کھول کر امداد کی ہے
’ آگے بڑھو، زلزلے زدگان کی مدد کرو‘ یہ اعلان کراچی کی ہر اہم سڑک اور چوراہے پر گزشتہ تین دن سےگونج رہا ہے۔
کشمیر، پنجاب اور سرحد کے علاقوں میں زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پاکستان فوج، رینجرز، پیرا میڈیکل، ایدھی فاؤنڈیشن اور منہاج القرآن فاؤنڈیشن کی طرف سے بھی کیمپ لگائے گئے ہیں۔
ٹی وی چینلز پر بھی زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اعلانات کیے جارہے ہیں اور ہر ادارے کی جانب سے اس کڑی وقت میں مدد کے اعلانات کیے گئے ہیں۔
ٹی وی چینلوں پر متاثرین کی حالات زار دیکھنے کے بعد لوگوں نے دل کھول کر امداد دی ہے جس وجہ سے یہ کیمپ سامان سے بھر گئے ہیں مگر اب اس سامان کو متاثرین تک پہنچانے میں دقت درپیش آرہی ہے۔
کیمپ میں لوگوں کی جانب سے دیا جانے والا سامانسندھ حکومت کے محکمہ اطلاعات کے مشیر صلاح الدین حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں نے اتنا سامان دیا ہے جو اب ’سرپلس‘ ہوگیا ہے۔ بہت سامان فیصل ائر بیس پر پڑا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سامان کی ترسیل میں دشواری پیش آرہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے امدادی فنڈ میں پانچ کروڑ روپے کے عطیے کا اعلان کیا تھا اور اس کے علاوہ سامان سے بھرے ہوے کئی ٹرک بھی بھیجے گئے ہیں۔ جن پر موجود امدادی اشیاء میں خشک راشن، کپڑے اور ادویات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بھی بھیج دی گئی ہے جبکہ مزید سامان بھیجا جا رہا ہے۔
سندھ رینجرزکے ترجمان کیپٹن عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ عوام نے بہت سامان امداد میں دیا ہے اور ہم پندرہ ٹرک بھیج چکے ہیں جبکہ ایک سی ون تھرٹی طیارہ آج پہنچ رہا ہے جس میں بقیہ سامان بھیجا جائے گا جبکہ کچھ سامان ٹرین کے ذریعے بھی بھیجا جا رہا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان ریاض الدین نے بتایا کہ لوگ دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں۔ ہم لاتعداد سامان بھیج چکے ہیں اور مزید تین ٹرالر بدھ کے روز روانہ ہوں گے۔ جس کے بعد روزانہ دو ٹرالر روانہ کیے جائیں گے۔
بچوں کے ساتھ بڑے بھی اس کارِ خیر میں شریک تھے
انہوں نے بتایا کہ ہمیں بلیو ایر کی جانب سے فری کارگو سروس فراہم کی جا رہی ہے جس میں ہم سامان بھیج رہے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز سے محمد حسن نے بتایا کہ وہ ایک سی ون تھرٹی طیارے میں سامان بھیج چکے ہیں جبکہ کچھ سامان آج رینجرز کی مدد سے دوسرے سی ون تھرٹی میں روانہ ہو جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی بہت بڑی تعداد میں سامان موجود ہیں مگر بھیجنے کے لیے ذرائع نہیں ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے رہنما کلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا دفتر سامان سے بھرا ہوا ہے جس میں سامان کی پیکنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے اب تک سامان سے بھرا ایک چارٹر جہاز روانہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے سامان مل رہا ہے اسی رفتار سے بھیجا جارہا ہے۔

Major injured - cadet college Petaro


سویلین سے لڑائی، میجر زخمی

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/11/061109_cadets_clash_civilians.shtml

جامشورو کے قریب کیڈٹ کالج کے اہلکاروں اور عام لوگوں کے درمیان تصادم میں فوجی کموڈور اور میجر سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں پانچ فوجی ہیں۔
جامشورو پولیس کا کہنا ہے کہ صفر خاصخیلی گاؤں کے باہر خالی زمین موجود ہے جس پر گاؤں والوں اور کالج انتظامیہ کا دیرینہ تنازعہ چل رہا تھا۔ جمعرات کی شام بھی اس پر دونوں فریقین میں تصادم ہوا ہے۔
کیڈٹ کالج پٹارو کے ترجمان لیاقت رضوی نے بتایا کہ جمعرات کی شام کالج کے باہر زمین پر معمول کا تعمیراتی کام جاری تھا کہ صفر گوٹھ سے مسلح افراد نے حملہ کردیا جس میں کالج کے پرنسپل کمانڈر عابد سلیم، میجر رانا ضیا، محمد ریاض ، محمد مشتاق، عبداللہ ، محمد حسن اور شیر عباس زخمی ہوگئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق زخمیوں میں سے محمد عباس اور شیر عباس سویلین ملازم ہیں۔
صفر گاؤں کی معزز شخصیت محمد اسلم خاصخیلی نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پرنسپل عابد سلیم نے پہلے ان کے گھر پر آکر فائرنگ کی، اس کے بعد وہ کیڈٹ لیکر آئے جنہیں وہ گاؤں کے بیچ سے چکر لگاوا کرگئے۔ اس کے بعد انہوں نے گاؤں گرانے کی کوشش کی جس پر جھگڑا ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، نہ ہی ان کے لوگوں نے گولی چلائی ہے۔ ’فوجی اپنی گولیوں سے خود زخمی ہوئے ہیں جبکہ گاؤں کے تین لوگوں کریم بخش، عباس علی اور بشیر کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔‘
اسلم خاصخیلی کے مطابق یہ قدیمی گاؤں ہے اور عدالت نے ان کے حق میں منع نامہ بھی جاری کیا تھا مگر پھر بھی فوجی زور زبردستی کرتے رہے ہیں۔ کالج کے ترجمان نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جس زمین پر کام جاری ہے وہ کالج کی ملکیت ہے، جو سندھ حکومت نے انہیں دی تھی۔
جام شورو پولیس نے اللہ بخش اور کریم بخش سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ گاؤں والوں اور کالج انتظامیہ میں زمین کے حق ملکیت پر طویل عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے۔

Sind TV Broadcast stopped


سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/11/061109_sindh_tv_braodcast_uk.shtml

پاکستان حکومت نے علاقائی ٹی وی چینل ’سندھ ٹی وی‘ کے نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سندھ ٹی وی کے چیف ایگزیکیوٹو افسر ڈاکٹر کریم راجپر کا کہنا ہے کہ بغیر کسی نوٹس یا آگاہی کے یہ نشریات بند کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بدھ کی شام کو دفتری اوقات کار کے بعد زبانی طور پر یہ حکم جاری کیا گیا۔
ڈاکٹر راجپر کے مطابق’ ہم نے جب پاکستان الیکٹرانک ریگیولرٹری اتھارٹی (پیمرا) سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے کہنے پر یہ حکم جاری کیا ہے‘۔
سندھ ٹی وی کے چیف ایگزیکیوٹو افسر ڈاکٹر کریم راجپر کا کہنا ہے کہ بغیر کسی نوٹس یا آگاہی کے یہ نشریات بند کی گئی ہے

سندھ ٹی وی کے چیف ایگزیکیوٹو افسر کے مطابق ان کی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے پروگرام ’بولڈ‘ ہوتے ہیں مگر انہوں نے ملک کے خلاف کوئی پروگرام نشر نہیں کیا ہے ۔
ڈاکٹر کریم کا کہنا تھا کہ جو سرکاری لکیریں کھنچی ہوئی ہیں انہوں نے انہیں کبھی عبور نہیں کیا ہے۔ ’اس فریم کے اندر رہ کر جتنے بولڈ پروگرام کرسکتے ہیں کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی حقیقی رائے عامہ سامنے آئے‘۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جمعرات کے روز اقبال ڈے کی وجہ سے عام تعطیل ہے۔ پاکستان الیکٹرانک ریگیولرٹری اتھارٹی سے جب رابطہ کیا گیا تو شکایتی سیل میں بیٹھے ہوئے ملازمین نے اس بارے میں تفیصل بتانے سے انکار کیا۔

Two missing persons found

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/11/061109_missing_jeay_sindh_uk.shtml


دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد

ریاض سہیلبی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


ستار ہکڑو جیۓ سندھ متحدہ محاذ کے عہدیدار ہیں
سندھ میں تیرہ ماہ سے لاپتہ دو قوم پرست رہنماؤں مظفر بھٹو اور ستار ہکڑو کو تیرہ ماہ کے بعد گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔
دونوں کا تعلق قوم پرست جماعت جیئے سندھ متحدہ محاذ سے ہے۔
جام شورو پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان تخریب کاری کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں، اور ان سے دو پستول اور دھماکہ خیز مادہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق قوم پرست رہنماؤں کو دریائے سندھ سے قریبی گزرنے والی گیس پائپ لائین کو بم سے اڑانے کی کوشش کے دوران مزاحمت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔
لاپتہ افراد پر خصوصی ضمیمہ
پولیس نے دونوں رہنماؤں کا حیدرآباد میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت اور سول کورٹ کوٹڑی سے ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔
مظفر بھٹو جام شورو پاور ہاؤس میں سب انجینیئر سمیت ملازمین کی یونین کے بھی رہنما تھے۔ وہ قوم پرست پارٹی جیئے سندھ متحدہ محاذ کے مالیاتی سیکرٹری بھی تھے۔
مظفر بھٹو جام شورو پاور ہاؤس میں سب انجینیئر سمیت ملازمین کی یونین کے بھی رہنما تھے۔ مظفر بھٹو کے بھائی سکندر بھٹو نے پاکستان میں لاپتہ افراد پر بی بی سی کے خصوصی پروگرام میں بتایا تھا کہ ان کے بھائی کواکتوبر دو ہزار پانچ میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
سکندر بھٹو کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں نے جیئے سندھ متحدہ محاذ کے خلاف کوئی آپریشن شروع کیا اور اس میں ان کے بھائی اور اس کے کچھ ساتھیوں کو دہشت گرد کہا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں جیئے سندھ متحدہ محاذ کے چھ رہنماؤں کو عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے، جن میں سے دو کی گرفتاری بدین اور چار کی ضلع جامشورو سے ظاہر کی گئی ہے، ان تمام پر عائد کیے گئے الزامات میں یکسانیت ہے

ستار ہکڑو جیۓ سندھ متحدہ محاذ کے عہدیدار ہیں۔ ان کے بھائی سہیل ہکڑو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ستار گھر والوں کو کراچی نوکری تلاش کرنے کے لیئے جانے کا کہہ کر گئے تھے جہاں سے وہ پھر گم ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں جیئے سندھ متحدہ محاذ کے چھ رہنماؤں کو عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے، جن میں سے دو کی گرفتاری بدین اور چار کی ضلع جامشورو سے ظاہر کی گئی ہے، ان تمام پر عائد کیے گئے الزامات میں یکسانیت ہے۔
نواز خان اور سکندر سومرو کو دھماکے سے پل اڑانے، احمد خان تیونو اور ذوالفقار خاصخیلی پر ریلوے ٹریک پر دھماکہ کرنے، اور ستار ہکڑو اور مظفر بھٹو پر گیس پائپ لائین کو بم سے اڑانے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Dr Qadeer operated upon


ڈاکٹر عبدالقدیر کا ’ کامیاب آپریشن‘

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


ڈاکٹر قدیر فروری دو ہزار چار سے نظر بند ہیں
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سنیچر کو کراچی کے ایک نجی ہپستال میں آپریشن کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری کے گئے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کا آپریشن کامیاب ہوا ہے۔
ستر سالہ ڈاکٹر خان کو مثانے کا کینسر لاحق ہے۔ انہیں جمعرات کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں گزشتہ دو روز کے دوران ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یہ آپریشن ڈاکٹر فرحت عباس کی سربراہی میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کیا۔
آپریشن کے موقعے پر ڈاکٹر قدیر کی بیگم اور بیٹی سمیت ان کے ذاتی معالج لیفٹیننٹ جنرل (ر) ریاض احمد بھی موجود تھے۔
فوجی ترجمان کے مطابق آپریشن کے بعد ڈاکٹر فرحت عباس نے بتایا ہے کہ بیماری کو مزید پھیلنے سے کامیابی کے ساتھ روکا گیا ہے۔
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے بعد ڈاکٹر قدیر نگہداشت کے لیئے کچھ دن ہسپتال میں زیر علاج رہیں گے۔
ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر قدیر خان کو صبح نو بجے آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا جہاں دس بجے آپریشن شروع ہوا، یہ آپریشن تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ نظر بند جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آپریشن کے لیئے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کے مثانے کے کینسر کا آپریشن کیا جائے گا۔ڈاکٹر خان کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان فروری 2004 سے نظر بند ہیں۔ ان پر جوہری راز چند دوسرے ممالک تک پہنچانے کا الزام تھا جس کا اعتراف انہوں نے ٹیلیویژن پر ایک تقریر کے دوران کیا تھا۔

Scandal of investment companies


سندھ میں سرمایہ کار کمپنیوں کا سکینڈل

ریاض سہیل حیدرآباد سندھ

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/04/040422_sindh_invest_na.shtml
سندھ میں گزشتہ دو ماہ میں انٹر پرائز کمپنیاں لوگوں کے تیس کروڑ سے زائد کی رقم ہڑپ کر چکی ہیں مگر پولیس ابھی تک ملزمان کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر کنگال کرنے والی یہ کمپنیاں ایک عرصے سے کام رہی ہیں- مگر ان کی حقیقت کا لوگوں کو تب پتہ چلا جب مارچ میں لاڑکانہ کے لوگوں کو بیس کروڑ روپے کی رقم سے ہاتھ دھونے پڑے -
پارس نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے خلاف مارکیٹ تھانہ لاڑکانہ پر سہیل شاہانی کی فریاد پر دس افراد کے خلاف فراڈ اور دھوکہ بازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انجمن تاجران لاڑکانہ کے صدر نثار علی اور سہیل شاہانی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو متاثرین کے تفصیلات جمع کر رہی ہے۔ نثارعلی کا کہنا ہے کہ پارس کمپنی کے علاوہ ایک اور کمپنی بھی لوگوں کے پیسے لے کر فرار ہوگئی ہے۔
دونوں کمپنیوں کے پاس آٹھ سو افراد رجسٹرڈ تھے جن کی بیس کروڑ سے بھی زائد رقم ہتھیا لی گئی ہے۔
ماہ رواں میں حیدرآباد میں ڈریم ویزا انٹر نیشنل کمپنی کے مالکان کے خلاف دھوکے بازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لطیف آباد اے سیکشن پولیس تھانے پر درج اس مقدمےمیں فریادی حکومت ہے اور ریاست کی جانب سے پولیس سب انسپیکٹر فضل حسین نے مقدمہ درج کروایا ہے۔ پولیسں نے کپمنی کے ایک مینیجر ناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم ناصر نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو پچیس فیصد رعایت پر کار، موٹر سائیکل، موبائل فون اور دوسرا سامان فراہم کرتے تھے جس کی ترسیل پینتالیس دن کے اندر ہوجاتی تھی۔ پولیس کے مطابق کمپنی کے مالکان لوگوں سے بکنگ کے نام پر کروڑوں روپے لے کر فرار ہوگئے ہیں۔ منیجر ناصر کا کہنا ہے کہ وہ بھی فرار ہونے والے تھے کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کمپنی کہ پاس کوئی بھی رجسٹریشن یا سند نہیں ہے-
حیدرآباد میں ایک اور کمپنی بھی لوگوں کی دس کروڑ روپے سے زائد رقم لے کر آفیس بند کرکے فرار ہوگئی ہے۔
ایک متاثر نے بتایا کہ ان کے چار لاکھ کمپنی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ کمپنی سے چار موٹر سائیکلیں حاصل کرچکے تھے جس کے بعد لالچ میں آکر مزید پیسوں کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کمپنی بھی مارکیٹ میں پچپن ہزار میں ملنے والی موٹر سائیکل پینتالیس ہزار میں دیتی تھی جس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے پیسے لگائے۔ اس کے علاوہ کار اور دیگر الیکٹرانکس کی مصنوعات بھی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر دلوائی جاتی تھیں۔ پچیس سالہ نوجوان کا کہنا ہے ’اگر مقدمہ درج کرائیں گے تو پیسے نہیں ملیں گے ہم لوگ پولیس کے پاس نہیں گئے‘۔
یہ کمپنیاں آسان اقساط اور پچیس فیصد کم قیمت پر مختلف اشیاء فراہم کرتی تھیں جس کے لئے کمپنی کا رکن بننا پڑتا تھا جبکہ لوگوں کے پیسے ڈپازٹ رکھ کر پچیس سے تیس ہزار تک منافع دیا جاتا تھا۔ اس پرکشش پیشکش کے جال میں لوگ پھنس گئے اور انہوں نے بڑی تعداد میں پیسے لگادیے۔ کمپنیوں کے ممبران میں مڈل کلاس کے تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت ہے۔ متاثرین میں نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری ملازمین، ڈاکٹر اور وکیل بھی شامل ہیں۔

Killer of religious personalities


مذہبی شخصیات کا ’قاتل‘ گرفتار

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/03/070304_shamzai_killer_ns.shtml

کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی
کراچی پولیس نے کالعدم شیعہ شدت پسند تنظیم سپاہ محمد کے ایک مبینہ کارکن کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم مفتی نظام الدین شامزئی اور مولانا اعظم طارق کے قتل سمیت کئی فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث ہے۔
ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر نے بتایا کہ ملزم حماد ریاض نقوی کو کراچی میں ملیر کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی گرفتاری پولیس سے مقابلے کے بعد عمل میں آئی اور اس دوران اس کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس نے حماد ریاض سے ایک کلاشنکوف، دو دستی بم اور ایک پستول برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حماد ریاض کالعدم انتہا پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنماء اور رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزموں کا ساتھی ہے۔ پولیس کے مطابق اسی گروہ نے سال دو ہزار چار میں حملہ کر کے مفتی شامزئی کو قتل اور ان کے بیٹے کو زخمی کر دیا تھا۔
اعظم طارق کو اسلام آباد میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا
اسی سال جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر مفتی جمیل احمد اور عالمی مجلس ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا نذیر احمد تونسوی بھی ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس ان دونوں علماء کے قتل میں بھی حماد رضا اور ان کے ساتھیوں کو ملوث بتا رہی ہے۔
ان واقعات کے بعد کراچی شہر میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔
سی آئی ڈی پولیس کے مطابق دو ہزار پانچ میں ملزم ریاض حماد اور اس کے ساتھیوں نے مفتی عتیق الرحمان، مولانا ارشاد الحق اور عمار عتیق الرحمان کو بھی قتل کردیا تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروہ کی سرپرستی ملتان کا ایک ڈاکٹر کرتا ہے اور وہی اس کا ہدف مقرر کرتا ہے۔ پولیس کی ایک ٹیم ملتان میں مذکورہ ڈاکٹر کی گرفتاری کے لیے روانہ کی جا چکی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث اس گروہ میں شامل تمام ملزم گریجویٹ ہیں، جن میں ایک پولیس کانسٹیبل، ایئر فورس کا ایک سابق ملازم اور ایک نجی کمپنی کا ملازم شامل ہیں۔

Hindu- Sikh Conflict over Temple


سکھوں اور ہندؤں کے درمیان تنازع

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/06/050629_sikh_hindu_uk.shtml

ہندؤں کے وکیل نیل کشور کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو سینتیس سے یہ ہندؤوں کا مندر ہے
کراچی شہر میں پاکستان چوک پر واقع ایک قدیمی مذہبی عمارت پر ہندؤوں اور سکھوں کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا ہے کہ یہ مندر ہے یا سکھوں کا گردوارہ۔
تنازعہ انیس سو ترانوے میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد میجسٹریٹ نے اس عمارت کو سربمہر کردیا تھا۔ میجسٹریٹ کے اس فیصلے کے حلاف سکھوں نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا اور سیل کھلوائی۔ لیکن ہندؤں کی اپیل پر سندھ ہائی کورٹ نے دوبارہ اس مذہبی مقام کو سربمہر کردیا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
ہندؤں کے وکیل نیل کشور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سنہ انیس سو سینتیس سے یہ ہندؤوں کا مندر ہے۔ چونکہ ہندوؤں کوگرونانک سے بھی لگاؤ ہے، اس لیے مندر میں سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب بھی رکھی جاتی ہے۔
سکھوں کے رہنما ہیرا سنگھ نے بتایا کہ یہ جائدادگرو نانک شیوا منڈلی کے زیر اہتمام ہے، اور کمیونٹی کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو سینتیس میں سادھو سنگھ مینجنگ ٹرسٹ نے یہ گردوارہ تعمیر کرایا تھا۔ تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ یہاں پر آ کر آباد ہوئے۔
سنہ انیس سو چھیاسی میں یہ عمارت دوبارہ گردوارے کے طور پر کھول دی گئی۔ بابری مسجد کے واقعے کے بعد ہندوؤں نے دعویٰ کیا کہ یہ مندر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کے مذہبی عقیدے کے مطابق بتوں کی پوجا نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام عمارت کو سربمہر نہیں کیا گیا ہے صرف سکھوں کے حصے کو سیل کیا گیا ہے۔
ہندو وکیل نیل کشور کا کہنا ہے کہ اس وقت جو سکھ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہندو دھرم چھوڑ کرسکھ ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل سندھ کے شمالی شہر ڈہرکی میں دو سو سالہ قدیم عبادت گاہ کے بارے میں تنازع کھڑا ہوگیا تھا کہ یہ مندر ہے یا گردوارہ یا کسی سنت کا دربار؟ اس عبادت گاہ پر دو اقلیتی برادریاں ہندو اور سکھ آپس میں الجھ پڑی تھیں۔
ڈہرکی سندھ کا واحد شہر ہے جہاں سکھوں کے دو سو خاندان آباد ہیں

پنجاب کی سرحد کے قریب واقع ڈہرکی میں دو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے سندھ کے قدیمی باشندے بستے ہیں۔ ہندو آبادی اکثریت میں ہے۔ تاہم ڈہرکی سندھ کا واحد شہر ہے جہاں سکھوں کے دو سو خاندان آباد ہیں جس میں کیس داری ( ڈاڑھی رکھنے والے) اور فہج داری یا مونا سکھ (بغیر ڈاڑھی والے) شامل ہیں۔ ڈہرکی کے علاوہ سندھ کے دوسرے کسی علاقے میں سکھوں کا رنگ نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے اس تنازع کے بعد ہی سندھ کے اکثر لوگوں کو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ سکھ سندھ میں بھی وجود رکھتے ہیں۔
سندھی سکھ اپنی طبیعت میں برصغیر کے روایتی سکھوں سے بہت مختلف اور ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ روایتی سکھوں کی طرح وہ اپنے ساتھ کرپان نہیں رکھتے۔پاکستان کی اقلیتوں کا آپس میں جھگڑنے کا یہ انوکھا واقعہ ہے جو کسی مذہبی مقام کے بارے میں ہو رہا ہے۔

Jirga, despite ban by High court


ہائی کورٹ پابندی کے باوجود جرگہ

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی



دونوں قبائل مجموعی طور پر چوراسی لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں گے۔ (فائل فوٹو)
وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں منعقدہ ایک جرگے میں مہر جتوئی قبائلی جھگڑے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ جرگے میں فی ہلاک شدہ کی تین لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیاگیا۔ دونوں قبائل مجموعی طور پر چوراسی لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں گے۔
سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں ایسے تمام جرگوں پر پابندی عائد کردی تھی جو عدالتی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اس عدالتی فیصلے کے باوجود سندھ میں دو درجن سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں قتل، کارو کاری جیسے سنگین مقدمات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں۔ ان جرگوں میں صوبائی وزرا، اسمبلی اراکین شرکت کرتے رہے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں ایسے تمام جرگوں پر پابندی عائد کردی تھی جو عدالتی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اس عدالتی فیصلے کے باوجود سندھ میں دو درجن سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں قتل، کارو کاری جیسے سنگین مقدمات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں

مہر جتوئی تنازعہ گزتہ سترہ سال سے جاری تھا۔ جس کے تصفیے کے لیے یہ چھٹا جرگہ تھا۔
وزیر اعلیٰ کے دباؤ کے باوجود جتوئی قبیلے کے تین گروپوں کمالانی، خروس اور تڑت نے شرکت نہیں کی۔
اتوار کی شام سکھر سرکٹ ہاؤس میں وزیر اعلی سندھ کی زیر نگرانی مہر جتوئی جرگے میں جاری خون ریز تصادم کا تصفیہ ہوگیا۔
فیصلے میں ثالث کی حثیت سے صوبائی وزیر منظور پنہور، جمیعت علمائے سندھ اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما خالد محمود سومرو، مہر قبیلے کی جانب سے سردار علی گوہر مہر، وفاقی وزیر غوث بخش مہر، اور جتوئی قبیلے کی جانب سے سردار خادم حسین جتوئی، رکن قومی اسیمبلی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی، ایم پی اے عابد جتوئی، اور دیگر قبائلی سرداروں نے شرکت کی۔
فیصلے کی تفصیلات خالد محمود سومرو نے پڑھ کر سنائیں۔
خالد محمود سومرو نے بتایا کہ جرگے میں مہر اور جتوئی قبائل کے مشیروں نے اپنے اپنے فریق کے ہلاک شدگان، زخمیوں اور نقصانات کی تفصیلات پیش کیں۔ فیصلے میں مہر اور جتوئی قبیلوں کے چودہ چودہ افراد کی ہلاکت ایک دوسرے پر ثابت ہوئی۔ جس کے لیے تین لاکھ روپے فی ہلاک شدہ کے لیے بیالیس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیاگیا۔
مولانا سومرو کے مطابق دونوں فریقین یہ رقم نومبر تک ڈی سی او سکھر کے پاس جمع کرائیں گے۔
فیصلے کے مطابق جھگڑے میں پہل کرنے والے فریق کے خلاف دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائےگا۔
جرگے کے بعد سکھر سرکٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے جلد ایک بِل اسمبلی میں پیش کرینگے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں کے حل کے لیے کورٹ بھی بنائی جا سکتی ہے۔
اس موقع پر سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد سے تین سو سے زائد پولیس نفری دونوں متحارب گروپوں کے لوگوں کو بحفاظت جرگے کے مقام پر پہنچانے کے لیے طلب کی گئی تھی۔
اس جھگڑے میں دونوں فریقین کے لوگوں کے علاوہ آٹھ راہگیر یا ایسے افراد جن کا نہ دونوں برادریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا قتل ہو گئے تھے۔

Advai in Karachi after 20 years


اڈوانی بائیس سال بعد کراچی میں

ریاض سہیل کراچی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2005/06/050603_advani_kar_sen.shtml

لال کرشن اڈوانی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ لال کرشن اڈوانی بائیس برس کے بعد رات کو تقریبا پونے ایک بجے اسلام آباد سے بذریعہ پی آئی اے کی پرواز تین سو سات کراچی پہنچے۔
کراچی میں قائداعظم ہوائی اڈے پر ایم کیو ایم کے پارلیمانی پارٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، صوبائی وزرا شعیب بخاری اور نادر اکمل نے ان کا استقبال کیا۔
کراچی میں اپنے دو روز قیام کے دوران ایل کے ایڈوانی سنیچر کی صبح کو محمد علی جناح کی مزار پر حاضری دیں گے جس کے بعد وہ اپنے سابقہ اسکول سینٹ پیٹرکس جائینگے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایل کے ایڈوانی کو سکول کی کچھ یاد تصاویر تحفے میں دی جائینگی۔
ایل کے ایڈوانی سندھ کے گورنر عشرت العباد اور وزیر اعلی سے بھی ملاقات کرینگے۔ جب کہ ایم کیو ایم اور بینظیر بھٹو کے سسر کی جانب سے ان کو استقبالیے دیے جائینگے۔
ایل کے ایڈوانی پا ک بھارت بٹوارے کے بعد انیس سو اٹہتر میں پہلی مرتبہ اپنی پیدائش کے شہر کراچی آئے تھے۔
پاک بھارت حالات کشیدہ ہونے کے بعد کچھ عرصہ قبل مقامی اخبارت میں یہ خبریں آئیں تھیں کہ ایل کے ایڈوانی کے خلاف کراچی کے تھانے جمشید کوارٹر میں ایک ایف آئی آر درج ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دس ستمبر انیس سو سینتالس کو محمد علی جناح پر قاتلانہ حملے کی سازش کی تھی۔
سندھ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم نے گذشتہ دن اس مقدمہ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی مقدمہ درج نہیں ہے جبکہ دفتر خارجہ بھی اس کی تردید کرچکا ہے۔

Asif Zardari Profile


آصف علی زرداری کا سفر

ریاض سہیلبی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/12/071231_zardari_profile.shtml

ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر وہ بینظیر بھٹو کے شوہر نہ ہوتے تو شاید ان کے خلاف اتنا پروپگنڈہ نہیں کیا جاتا
بیس برس قبل انیس سو ستاسی میں بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی تھی تو کئی دنوں تک لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال اٹھتے رہے۔ اب بےنظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق پارٹی کے سربراہ کے طور پر ان کی نامزدگی پر بھی کچھ ویسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری کا تعلق ایک درمیانہ بزنس کلاس سے ہے۔ ان کے والد حاکم علی زرداری پی پی ٹکٹ پر ستر کی دہائی میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ بڑی مونچھیں اور مخصوص سندھی اسٹائل رکھنے والے اکیاون سالہ پر اعتماد آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ تعمیرکرایا تھا۔ جس وجہ سے کئی مخالف سیاسی رہنما ان پر برہمی کا اظہار کرتے رہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں میڈیا میں آئیں تھیں۔
آصف زرداری بینظیر حکومت میں مختلف معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئی تو پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں اور کارکنوں کو یہ شکایت تھی کہ حکومت اور پارٹی میں کسی عہدہ دار کی نہیں چلتی۔ ہر فیصلے اور ہر معاملے پر آصف زرداری حاوی ہیں۔
پارٹی کے بعض اراکین کے تحفظات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سیاسی رول بھی ادا کرنا شروع کیا۔ مخالفین نے آصف زرداری کو ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ کا لقب دیا اور ان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ مختلف سودوں میں کمیشن لے رہے ہیں۔ تاہم وہ اور بینظیر بھٹو آخری وقت تک ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کے پیچھے مخالفین کے سیاسی مقاصد ہیں۔ کیونکہ اس حوالے سے حکومت کوئی بھی الزام ان پر ثابت نہیں کرسکی ہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر وہ بینظیر بھٹو کے شوہر نہ ہوتے تو شاید ان کے خلاف اتنا پروپگنڈہ نہیں کیا جاتا ۔
آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست نواز ہیں۔ جب وہ جیل میں سنگین حالات سے دوچار تھے تو ان کے والد حاکم علی زرداری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آصف دوستوں کی وجہ سے ہی یہ دکھ دیکھ رہا ہے۔
زرداری نے ایک مرتبہ اپنی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کا ایک پاؤں جیل میں اور دوسرا وزیر اعظم ہاؤس میں ہے۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کہ ان کی شادی کے بعد جب بینظیر حکومت میں رہیں تو وہ وزیر اعظم ہاؤس میں رہے اور جب اپوزیشن میں رہیں تو وہ جیل میں یا پھر بیرون ملک۔
پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف ہونے سے لیکر دو ہزار چار تک وہ مسلسل جیل میں رہے۔ اور یوں آٹھ سال کا عرصہ انہوں نے قید میں گزارا۔ اس دوران چار حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن زرداری کے لیے جیل کے دروازے نہیں کھلے۔
شروع میں زرداری سے ان کی جماعت اور عام لوگوں کی شاید ہی کوئی ہمدردی رہی ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ پارٹی اور عام لوگوں میں کسی حد تک ہمدردی حاصل کرتے رہے۔ جب نواز شریف ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے تو لوگوں میں زرداری کے لیے جگہ پیدا ہونا شروع ہوئی کہ وہ ابھی تک جیل کاٹ رہے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے پورے دور میں حکومت نے زرداری کے مقدمات کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا اور یوں زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات پس منظر میں چلے گئے اور وہ سیاسی طور پر ایک مظلوم شخص کے طور پر ابھرے۔
وہ پارٹی کے موجودہ اراکین میں سب سے زیادہ جیل کاٹنے والے لیڈر بن گئے ہیں اور ان کا نام بھی قربانی دینے والوں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ایک طاقتور سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئے اور جنرل مشرف کی ٹیم نے بینظیر بھٹو سے ڈیل کرنے کے لیے آصف زرداری سے بات چیت کا آغاز کیا تھا۔
آصف زرداری کے بچوں نے والدین کے ساتھ کبھی بھی ایک طویل عرصہ نہیں گزارا۔ جب بلاول، بختاور اور آصفہ چھوٹے تھے تو ان کے والد زرداری کئی میل دور جیل میں تھے۔ بینظیر بھٹو سیاسی مصروفیات کے باوجود ایک ماں کے ساتھ باپ کی بھی ذمہ داری ادا کرتی رہیں۔
قید کے دوران وہ مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے دبئی اور امریکہ میں علاج کرایا۔ صحت کی خرابی یا الزامات کے پیش نظر بینظیر نے ان کو فی الحال باقاعدہ سیاست سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ مجوزہ انتخابات میں وہ امیدوار بھی نہیں تھے۔
جب بینظیر بھٹو بیرون ملک سے وطن آئیں تو زرداری دبئی میں بچوں کے پاس چلے گئے۔ تاہم انتخابی مہم کے لیے انہیں دسمبر کے آخر میں چند روز کے لیے وطن آنا تھا۔ لیکن وہ اپنے تینوں بچوں سمیت بینظیر کی آخری رسومات کے لیے پہنچ گئے۔
بینظیر کے وصیت نامے کے مطابق آصف زرداری کو پارٹی کا سربراہ مقرر ہونا تھا لیکن انہوں نے یہ عہدہ اپنے بیٹے بلاول کو دے دیا ہے۔ انیس سالہ بلاول اکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں لہذا عملی طور پر یہ عہدہ پھر واپس آصف کے پاس آ گیا ہے۔
ماضی کے الزامات کے پیش نظر وہ خود حکومت کے اہم عہدے کے امیدوار نہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کے لیے چھوڑا جو بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دنوں میں پارٹی کو سنبھالتے رہے۔ تاہم عملی طور پر پیپلز پارٹی کا اسٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے۔

Karachi to be deweaponised

Karachi to be deweaponised
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081205_rahman_khi_riots_rh.shtml


کراچی، اسلحہ سے پاک کرنے کا اعلان

ریاض سہیلبی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی


مشیر داخلہ نے کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور وہاں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ میں شرکت کی
حکومت نے کراچی کے مختلف علاقوں میں قائم نو گو ایریاز ختم کرانے کا اعلان کیا ہے اور لوگوں ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ تھانوں پر غیرقانونی اسلحہ جمع اور لائسنس یافتہ اسلحہ رجسٹرڈ کرائیں۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے صدرارت میں ہونے والے اجلاس میں امن وامان کی صورتحال کی بہتری کے لیے صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں رینجرز اور محکمہ داخلہ کے افسران شامل ہوں گے۔
مقررہ کمیٹی کے اراکین اڑتالیس گھنٹوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں، گلیوں اور محلوں کا دورہ کرے گی اور صورتحال کا جائزہ لے گی اگر ضرورت پڑی تو فورس کو طلب کرلیا جائے گا۔
اجلاس میں مشیر داخلہ رحمان ملک، صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ڈی جی رینجرز سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایسے افراد جن کے پاس غیر قانونی اسلحہ ہے کو مشورہ دیا گیا کہ وہ تین روز کے اندر اندر یہ اسلحہ پولیس اسٹیشن پر جمع کرائیں اور جن کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ ہے و متعلقہ تھانے پر رجسٹرڈ کرائیں، غیر قانونی اسلحہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور جو قانونی اسلحہ رجسٹرڈ نہیں کرائے جائے گا،اس غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق مشیر داخلہ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ہدایت کہ شہر میں حساس مقامات پر پولیس کے ساتھ مل کر چوکیاں قائم کی جائیں، کراچی میں امن امان کے حوالے سے کوئی رخنہ اور انتظامی امور میں دخل اندازی اور کسی تنظیم کو امن و امان اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مشیر داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کی طرف سے مطلوبہ بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹ اور دیگر آلات ایک دو روز کو محکمہ داخلہ کو موصول ہوجائیں گے ملک میں امن امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے چین سے اسلحہ و دیگر آلات خرید کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں حالیہ فسادات کے دوران چند ٹی وی چینلز کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس اجلاس سے قبل مشیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی امن کے لیئے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ عمل امن کے ساتھ آگے چلے گی۔
صوبائی حکومت کی طرح انہوں نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ کراچی کی حالیہ ہنگامہ آرائی میں کون ملوث ہیں ان کا کہنا تھا ’ کوئی نہ کوئی تو ملوث ہے، جب بھی دھواں اٹھتا ہے کہیں نہ کہیں تو آگ لگی ہوتی ہے۔‘
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر ان کارروائیوں میں اضافہ ہوا تو وفاقی حکومت سندھ حکومت کو ہر قسم کی مدد فراہم کرے گی ، انہوں نے انٹیلی جنس اداروں اور رینجرز سے رپورٹس حاصل کی ہیں وفاقی حکومت ہر سطح پر ممکنہ مشورہ اور مدد فراہم کریں گے۔
مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی سب کا شہر ہے، جو شخص صوبہ سرحد میں رہتا ہے یہ اس کا حق ہے کہ یہاں آئے اور اردو بولنے والوں کا بھی حق ہے کہ وہ ملک میں کہیں بھی جائیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا پڑے گا۔
کراچی میں باہر سے آنے والے لوگوں کی رجسٹریشن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دوسرے ملکوں سے آتے ہیں ان کی رجسٹریشن کے لیئے ایک باقاعدہ محکمہ موجود ہے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے، اگر مزید اہلکاروں کی تعیناتی یا سہولیات کی ضرورت ہوئی تو فراہم کی جائیں گی ۔
پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت بڑی تحمل مزاجی سے اس معاملے کو آگے لیکر جارہی ہے نہ پاکستانی قوم جنگ چاہتی ہے نہ بھارتی بھائی جنگ چاہتے ہیں ایسا کوئی موقعہ نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجرم چاہے بھارتی ہو، پاکستانی ہو یہ کہیں سے بھی تعلق رکھتا ہو ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، ہم نے ملزمان کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کے لیئے بھارت کو غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے جو تین نام سامنے آئے ہیں ان میں سے دو بھارتی شہری ہیں جبکہ تیسرا حافظ سعید کون ہے ہم نہیں جانتے جب ٹھوس ثبوت دیئے جائیں گے اور نشاندھی ہوگی تو پھر حکومت کارروائی کرے گی۔

Friday, July 17, 2009

July 2999

Murder of Sipah Sahiba's lawyer in Karachi
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090716_ssp_killing_boycott_zs.shtml

Mangroves plantation
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090716_mangroves_guiness_uk.shtml

Hardships of IDPs: Karachi to Swat
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090715_idp_karachi.shtml

Target killings: Power to Rangers
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090714_rehman_malik_sen.shtml

Recommendations to repeal LB system
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090711_local_bodies_na.shtml

Plan to establish news record in tree plantation
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090710_plantation_record_zs.shtml

Sana Case shifted from ATC
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090710_sana_case_update_rh.shtml

Protest against Carbon tax
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090709_petrol_protests_as.shtml

Accused nominated in Major Kaleem Case shot dead
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090709_karachi_killing_update_rr.shtml

Power theft: Religious Fatwa
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090709_electricity_fatwa_zs.shtml

Wednesday, January 28, 2009

Khokhrapar route

Jaswant Singh visit: First delegation from Khokhrapr route
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/01/060129_khokhrapar_sen.shtml

Raja’s rail: History and background of Khokhrapar route http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/01/060129_khokhrapar_sen.shtml

Links of some major stories

Riaz Ahmed (Riaz Sohail)

1. Fear shadow on Displaced persons of Swat – Story on BBC Urdu Online and Radio
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/10/081003_swat_displaced_feature.shtml

2. Talibanization Threat in Karachi Story on BBC Urdu Online and Radio
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/08/080804_karachi_talibanisation_ra.shtml

3. Mortal remains of over 100 bodies wait for Ganga waters
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/07/080724_kar_shamshan_sen.shtml

4. Victimisation of Hindu minorities
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/02/070211_hindu_sindh_sen.shtml

5. First Hindu Officer in Pak Army
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/09/060926_danish_hindu_cadet_fz.shtml

6. Pir of Scheduled castes: Festival of Rama Pir
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/10/081010_rama_pir_mandar_rh.shtml

7. Gandhi from Zoological garden to Street ( Gandhi in Pakistan)
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/09/060918_gandhi_streets_memories.shtml

8. Happy voices become un happy (Singers’ protest)
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/05/060503_local_singers_ra.shtml

9. Theft to appease Bhagwan – Hindu God – Minor boy held for flour theft
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/08/080823_hindu_boy_poverty.shtml

10. Disturbed People living on border areas on Indo Pak tension after Mumbay blasts
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081225_sindh_tensions.shtml

11. Thar culture and lifestyle diminishing
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/07/060707_thar_dress_rs.shtml

12. Incomplete Thakur of Thar – Upper Hindu caste remains socially and culturally divided
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/02/060209_thakur_thar_uk.shtml

13. Thar Coal plant apprehensions and fears of locals
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/06/040601_thar_nj.shtml

14. Two Ahmedi Killed in Sindh
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/09/080910_ahmedi_killing_rh.shtml

15. Rioting in Sindh after Assassination of Benazir Bhutto: was it ethnic element involved?
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/01/080119_sindh_rioting.shtml

16. Khair Bux Marri talks about Balochistan situation after murder of Bugti
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/08/060831_marri_interview.shtml

17. Who to lead PPP after Benazir
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/12/071228_who_next_ppp_fz.shtml

18. Friendship and Love train to Indiahttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081227_pak_ind_train_np.shtml

19. Three Christians missinghttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081222_christian_missing_fz.shtml

20 Poors fell victim of violencehttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081202_karachi_affectees.shtml

21. Weapons exhibition: China to gainhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081124_weapon_exhibition_ra.shtml

22. Poor mothers leave childrenhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081118_children_edhi.shtml

23. Women demand action against Bijarani and Zehrihttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081126_woman_day_fz.shtml

24. Child marriage bid foiledhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/10/081031_child_marriage_as.shtml

25. Bagri in Karachi: Gypsy Tribe in Karachihttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/10/081014_khanabadosh_baghri.shtml

26. Migration from Balochistan people living in bad conditionhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/04/060424_baloch_rfgees_uk.shtml

26. Daughter and wife soldhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/07/040730_daughter_sold_sen.shtml

27. Girl given in marriage to settle disputehttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/12/061227_minor_marriage_riazsuhail.shtml

28. How days are passing: Poor under inflation, families whose bread earners are abroadhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081117_poor_khi_inflation_rh.shtml

29. Bomb attack at a train in India the survivors who returned to their homes in Pakistan
http://www.almotamar.net/en/2043.htm

30. Eid of women living in Shelters http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/09/080930_panah_women_eid_rh.shtml

31. Wanni Girls Child marriage
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/07/080719_wanni_girls.shtml

MQM PPP deadlock
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/04/080407_mqm_ppp_deadlock_uk.shtml

Taking justice in hands: Two accused burnt alivehttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/05/080515_karachi_killing_sen.shtml

Impacts of October 18 0n lifehttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071026_karachi_effects_si.shtml

Indian Monkey reaches Pakistan
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/04/080403_indian_monkey_in_pak.shtml

Killer of American diplomat hanged in Karachihttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/03/080305_karachi_sentencing_uk.shtml

Minorities and general elections http://www.bbc.co.uk/urdu/elections08/story/2008/02/080213_minorities_polls_si.shtml

Six arrested over Pakistan rape
http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/6316631.stm

Benazir Homecoming
BB Arrival Bomb blasthttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/10/071019_karachi_blast_update_ns.shtml
Disappeared: Two produced in the courthttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/11/061109_missing_jeay_sindh_uk.shtml

Killer of Religious personalitieshttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/03/070304_shamzai_killer_ns.shtml

Minor Girl given for marriage to settle disputehttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2006/12/061227_minor_marriage_riazsuhail.shtmlFive husbands of 12 year girlhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/06/040622_child_marraige_sen.shtml

Protest against Ban on two newspapershttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/02/070223_daily_islam_ban_zb.shtmlThreats to journalistshttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/05/070529_bullets_journo_ua.shtml

Sindh: Participation in freedom uprising of 1857
http://www.bbc.%20co.uk/urdu/%20pakistan/%20story/2007/%2009/070905_%20freedom_fighter_%20ra.shtml

Maderssah is Ideologyhttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/08/070802_madarsa_banori_zs.shtml

MQM – Shaista Alamanihttp://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/01/040115_shaista_case_political.shtmlhttp://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/guest/story/2004/01/040113_women_news_samana4_ms.shtmlhttp://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/debate/story/2004/01/040116_mqm_shaista_ms.shtml

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2004/10/041006_ahmadis_blasphemy.shtml

More links of stories on
http://riazsangi.blogspot.com/

Monday, January 12, 2009

Dec 2008

Kornagi oil pipe brusts
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081217_korangi_oilspill.shtml

Drone Bydon has role to uniform
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090112_gilani_drone_conde_nj.shtml

Stories of North Karachi Fire victims
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090110_zakiya_meerani_as.shtml

Mumtaz Bhutto released
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090105_mumtaz_release_zs.shtml

Challenges for New State Bank Governor Saleem Raza
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090102_state_bank_governor.shtml

Protests against Gaza attacks
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081228_israel_attack_protest_np.shtml

Love train to India
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081227_pak_ind_train_np.shtml

50 Senators to retire in March
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081226_senate_retirees.shtml

People living at borders are worried
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081225_sindh_tensions.shtml

Share market down
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081224_stock_exchange.shtml

Small Crimes and competent officials
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081224_sindh_powers.shtml

Three Christians Missing
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081222_christian_missing_fz.shtml

Saifur Rehman former NAB chief: Inter pole seeks details
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081219_saif_interpol_fz.shtml

Kornagi Oil spill causes eye and skin diseases
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081219_oil_spill_khi_rza.shtml

Protest of AL dawa students
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081217_dawa_children_protest.shtml

Protest for Irqi journalist in Pakistan
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081216_shoe_protest_pakistan.shtml

Karachi violence: Tribunal set up
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081215_karachi_tribunal.shtml

Efficiency of Police
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081213_illega_detemtion_sen.shtml

Six judges of Musharraf govt restored
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081213_judges_appointment_nj.shtml

Sindhi Poet Tajal Bewas dies
http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/story/2008/12/081213_sindhi_poet_dead_ka.shtml

Code for collecting hides
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081208_karachi_skin_code_ra.shtml

Poors fell victim of violence
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081202_karachi_affectees.shtml

Rally of civil society for peace in Karachi
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081204_khi_peace_rally.shtml

Edhi rally for peace in Karachi
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/12/081203_karachi_edhi_as.shtml

No cut in defence budget
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081126_ahmad_mukhtar_si.shtml

PAF planes
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081126_drone_response_fz.shtml