قادر جتوئی کی 28 سال بعد واپسی
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جلاوطنی بدترین سزا ہے: قادر بخش جتوئی
سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی اٹھائیس سال کی جلاوطنی کے بعد جمعرات کی شب واپس وطن پہنچ ہیں۔
کراچی ائرپورٹ پر قومپرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کی قیادت اور کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ ائرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں انہوں نے زمین کو چوما اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
اپنے مختصر خطاب میں قادر بخش جتوئی نے جلاوطنی کو بدترین سزا قرار دیا اور کہا کہ ان اٹھائیس سالوں میں ہر دن ان کے لیے عذاب کا دن تھا۔ وہ اپنے وطن پہنچ کر ایک نئی زندگی کا آعاز کریں گے اور یہ ’ان کا دوسرا جنم ہے۔‘
فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جلاوطن کیے گئے قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی کو سندھ ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں وطن واپس آنے کی اجازت دی تھی۔
اٹھائیس سال قبل پی آئی اے ہائی جیکنگ کیس میں قادر بخش جتوئی سمیت چون سیاسی کارکنوں کو ہائی جیکروں کے حوالے کیا گیا تھا۔
قادر بخش جتوئی پر الزام ہے کہ انہوں نے اکتوبر انیس سو اٹھہتر میں ساتھیوں سمیت جامشورو میں فوجی گاڑی پر حملہ کیا جس میں ایک فوجی سپاہی فضل ربی ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
پیپلز میڈیکل کالج میں ایک فوجی میجر کی جانب سے ایک طالبہ سے زیادتی کے خلاف جامشورو میں سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے طالب علموں نے جلوس نکالا تھا، جن کا فوجی اہلکاروں سے تصادم ہوگیا تھا۔
قادر بخش جتوئی اور حیدر شاہ کو جنوری انیس سو اکیاسی میں فوجی عدالت نے چودہ سال اور چوبیس سال کی سزا سنائی تھی۔
انیس سو اکیاسی میں پی آئی اے کے طیارے کو کراچی سے پشاور جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا۔ ہائی جیکروں نے مسافروں کے بدلے ایک سو چار سیاسی کارکن حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں فوجی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سیاسی کارکنوں میں سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی، حیدر شاہ اور سرفراز میمن بھی شامل تھے۔
قادر بخش جتوئی کے چھوٹے بھائی نذیر جتوئی نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے فوجی عدالت کی سزا اور انہیں ہائی جیکروں کے حوالے کرنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔
No comments:
Post a Comment