Tuesday, September 15, 2009

Love marriage, but miserable life


محبت کی شادی، بے بسی کی زندگی

ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


سائرہ جتوئی اور ان کے تیس سالہ شوہر اسماعیل سومرو گزشتہ سات ماہ سے پولیس کی حفاظت میں ہیں
سکھر کی سائرہ جتوئی نے اپنا کل اثاثہ سونے کی انگوٹھی بھی بیچ دی ہے، ان کا کہنا ہے اس انگوٹھی کے بدلے ملنے والے رقم میں سے وہ بچے کے لیے روزانہ دس روپے کا دودھ خریدتی ہیں اور اس میں اتنا پانی ڈالا جاتا ہے کہ ایک دن چل جائے۔ مگراب ان پیسوں میں سے بھی صرف دو سو روپے رہ گئے ہیں۔
بائیس سالہ سائرہ جتوئی اور ان کے تیس سالہ شوہر اسماعیل سومرو گزشتہ سات ماہ سے پولیس کی حفاظت میں ہیں جہاں ان کے باہر جانے اور ان سے کسی کی ملاقات پر پابندی ہے، سائرہ اور اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔سائرہ نے تقریباً ایک برس قبل جتوئی قبیلے اور والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند کے نوجوان اسماعیل سومرو سے شادی کرلی تھی۔ جتوئی قبیلے نے سائرہ کو کاری قرار دے دیا اور ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا، مگر پولیس کے کارروائی کی وجہ سے دونوں کی زندگی بچ گئی۔
دونوں کو تحفظ کے لیے کراچی منتقل کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں پولیس کینٹین کے برابر ایک کمرے میں رہائش فراہم کی گئی۔
سائرہ جتوئی کا کہنا ہے کہ جو انہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ تو آزاد گھوم رہے ہیں مگر وہ قیدیوں جیسی زندگی گذار رہے ہیں۔ اسی عرصے میں سائرہ جتوئی کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اسے اچھی خوراک فراہم کی جائے۔
ان کے کمرے کے باہر دو سپاہی ہر وقت موجود ہیں، اسماعیل سومرو کا کہنا ہے کہ مرد پولیس والوں کی وجہ سے ہر وقت بے پردگی ہوتی ہے۔ واش روم بھی وہیں پر ہے وہاں جانے کے لیے بھی ان کے سامنے سے گذرنا پڑتا ہے۔
تحفظ میں بے بسی
کمرے کے باہر دو سپاہی ہر وقت موجود رہتے ہیں، مرد پولیس والوں کی وجہ سے ہر وقت بے پردگی ہوتی ہے۔ واش روم بھی وہیں پر ہے وہاں جانے کے لیے بھی ان کے سامنے سے گذرنا پڑتا ہے

اسماعیل سومرو اسماعیل سومرو کے مطابق رات کو بارہ بجے تک کینٹین میں ٹیلیوژن چلتا ہے، جس وجہ سے ان کا بچہ سو بھی نہیں سکتا ہے۔
سائرہ کا کہنا ہے کہ رشتے دار اور قبیلے والے ان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اب ان کی نظریں صرف حکومت پر ہیں ان کی جان بچائی جائے وہ ان ظالموں کے ہاتھوں قتل نہیں ہونا چاہتی، وہ ایک مرتبہ تو ان کے ہاتھوں بچ گئی ہیں واپس نہیں جانا چاہتی۔
وہ اپنے پانچ ماہ کے بیٹے حسنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس معصوم کو اب کہا چھپاؤں اسے کھلا ماحول چاہیے مگر جب سے پیدا ہوا ہے یہ بھی قیدی کی زندگی گذار رہا ہے۔
اسماعیل اور سائرہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، انہیں کوئی ملک پناہ دے۔ سائرہ کے مطابق سرداروں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ جب تک ان کو سزا نہیں دیں گے سکون کا سانس نہیں لیں گے۔
’وہ کہتے ہیں کب تک پولیس کے پہرے میں رہو گی؟ آخر رہنا تو تمہیں پاکستان میں ہے؟ کیا تمہارا شوہر کام پر نہیں جائے گا؟ یا بچہ اسکول نہیں جائے گا؟ دیکھتے ہیں کب تک زندہ رہتے ہو‘۔ میں تو گھر میں رہ لوں گی مگر ان کو کہاں چھپاؤں، ہر وقت یہ خوف رہے گا کہ واپس آئیں گے یا نہیں۔
خواتین کے امور کی صوبائی وزیر توقیر فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ دو قبیلوں کے درمیان تصادم نہ ہو اس لیے حکومت نے دونوں کو تحفظ تو فراہم کیا ہے مگر اگر کوئی جوڑا یہ کہتا ہے کہ انہیں بیرون بھیجا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھانے کے حوالے سے شکایت درست نہیں ہے ملاقات پر اس لیے پابندی ہے کیونکہ اس میں ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ کچھ عرصہ اور انہیں ایسے رکھا جائے گا پھر کسی نامعلوم جگہ وہ جاسکتے ہیں۔
اس صورتحال میں جہاں اسماعیل اور ان کی بیگم سائرہ پریشانی اور اذیت کی زندگی گذار رہے ہیں وہاں ان کے گھر کی خواتین بھی اسی کرب سے گذر رہی ہیں، اسماعیل جو پہلے ہی شادی شدہ تھے ان کی بیوی نے خلع لے لی، جبکہ اغوا کی دھمکیوں کے بعد اسماعیل کی دو چھوٹی بہنوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
سائرہ کے گھر سے نکلنے کے بعد ان کی دو چھوٹی بہنوں کے رشتے ان کے قریبی رشتے داروں میں طے کردیے گئے ہیں، ان دونوں لڑکیوں کی عمریں چودہ اور پندرہ سال ہے۔
اسماعیل سومرو سکھر میں ویڈیو کیمرہ مین تھے اور ان کی سائرہ سے ملاقات ایک شادی کی تقریب میں ہوئی، جس کے بعد محبت کا یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا، اور سائرہ کے کہنے پر دونوں گھر چھوڑ کر کراچی آگئے۔ خاندان کی کچھ خواتین کے اغوا کے بعد اسماعیل سائرہ کو لیکر واپس سکھر پہنچے جہاں دونوں مقامی سرداروں کی قید میں رہے۔
خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں
ہم پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کہیں اور پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرداروں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ جب تک ہمیں سزا نہیں دیں گے سکون کا سانس نہیں لیں گے

اسماعیل اور سائرہ پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی اور جتوئی قبیلے کے سردار عابد جتوئی اور سردار جنید سومرو کے خلاف سائرہ اور اسماعیل کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا مگر دونوں نے ہی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔
اسماعیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سائرہ کے رشتے کے لیے والدین کو بھیجا تھا مگر سائرہ کے والدین نے صاف انکار کردیا، انہوں نے تصور نہیں کیا تھا کہ صورتحال اس قدر بگڑ جائے مگر امید ضرور تھی کہ مسئلہ کسی طریقے سے حل ہوجائے گا، مگر اب غیر یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہے گئے ہیں۔

No comments: