ستیش آنند کے اغواکار کون؟
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ستیش آنند کو گزشتہ بیس اکتوبر کو اغوا کیا گیا
کراچی سے اغوا کیے گئے پاکستان کے نامور فلم ساز اور ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند ساڑھےتین ماہ بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکے ہیں، جبکہ پولیس اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔
ستیش آنند کو گزشتہ سال بیس اکتوبر کو اس وقت اغوا کرلیا گیا تھا، جب وہ اپنے گھر سے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اپنے دفتر جا رہے تھے۔
وہ شہر کے پوش علاقے ڈیفینس فیز ٹو میں بیوی، تین بیٹیوں اور والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
تین ماہ گزرنے کے بعد بھی پولیس اور حکام اغوا میں ملوث گروہ کی شناخت اور بازیابی کے لئے بظاہر کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سٹیزن پولیس لیئزوں کمیٹی کے سربراہ شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے، کسی مذہبی گروہ کے ملوث ہونے کی اطلاعات کی وہ تصدیق اور تردید نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے طور پر کام کر رہی ہے مگر اس وقت کچھ بتانا مناسب نہیں ہوگا۔
پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت
ستیش آنند پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کے والد جے سن آنند بھی اس صنعت سے وابستہ تھے۔ وہ ایور ریڈی پکچرز کے مالک ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ’بینکاک کے چور، راجو بن گیا جنٹلمین، ہاتھی میرے ساتھی اور کہیں پیار نہ ہوجائے‘ جیسی کامیاب فلمیں دی۔
ستیش آنند کے خاندان نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کی بیٹی سلینا کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کو کچھ نہیں بتا سکتے۔
ستیش کے اغوا نے کراچی میں کاروبار سے منسلک ہندو کمیونٹی میں بھی غیریقینی اور عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ پاکستان ہندو کاؤنسل کے رہنما رمیش کمار کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے حکومت اور ستیش کے خاندان سے رابطہ کیا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو وہ زیادہ اچھالنا نہیں چاہتے، ہوسکتا ہے کہ خاندان خوف زدہ ہو کیونکہ وہ ان سے روبرو مل نہیں سکے ہیں۔
رمیش کمار کے مطابق مگر پولیس افسر سے جو بات ہوئی ہے اس سے انہیں شک ہے کہ اس میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں مگر انہیں کبھی اس بارے میں کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے۔
ستیش آنند پاکستان فلمی صنعت کی اہم شخصیت ہیں۔ ان کے والد جے سن آنند بھی اس صنعت سے وابستہ تھے۔ وہ ایور ریڈی پکچرز کے مالک ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ’بینکاک کے چور، راجو بن گیا جنٹلمین، ہاتھی میرے ساتھی اور کہیں پیار نہ ہوجائے‘ جیسی کامیاب فلمیں دی۔
ستیش کے اغوا کے بعد لاہور میں ان کے دفتر کو بھی خالی کرادیا گیا ہے۔ ان کے ایک دوست مرزا اختیار بیگ کا کہنا ہے کہ عدالت نے ستیش کے حق میں حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا۔
مگر ان کے اغوا کے بعد مالک نے موقع جان کر ان کا ویئر ہاؤس خالی کردایا اور اس میں موجود پرانی فلمیں اپنے ساتھ اٹھاکر لے گیا ہے۔ ’یہ فلمیں پاکستان کا ورثہ ہیں انہیں ان کے خاندان کو واپس دلایا جائے۔‘
مرزا اختیار بیگ جو پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں کا کہنا ہے کہ ان کا کچھ اداروں سے رابطہ ہوا ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ستیش جلد رہا ہوجائیں گے۔ اس بارے میں انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
پاکستان میں بھارتی اداکاروں اور اداکاراؤں کی آمد اور پاکستان کے اداکاروں کی بھارتی ٹی وی چینلز اور دیگر پروگرام میں شرکت میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ نامور بھارتی اداکارہ اور فلم ڈائریکٹر جوہی چاولہ کے قریبی رشتے دار ہیں۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مشیر داخلہ رحمان ملک کو ستیش آنند کی بازیابی کی ہدایت کی تھی مگر ان کی ہدایت پر بھی عمل نہیں ہوسکا ہے۔
No comments:
Post a Comment