کچھوؤں اور گوشت کی سمگلنگ
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انگور اور سیبوں کے باغات ان کچھوؤں کا مسکن ہوتے ہیں
چین اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں میٹھے پانی کے کچھوں کی طلب میں اضافے کی وجہ سے پاکستان سے ان کچھوں اور ان کے گوشت کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور کراچی اس تجارت کا مرکز بن گیا ہے۔
کراچی میں گزشتہ دنوں کوئٹہ سے بذریعہ ٹرین اسمگل کیے گئے پانچ سو کچھوے پکڑے گئے، کچھوں کی یہ قسم کوئٹہ اور آس پاس میں پائی جاتی ہے اور انگور اور سیبوں کے باغات ان کا مسکن ہوتے ہیں۔ محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق اس نسل کے کچھوے سندھ کے پہاڑی سلسلے کھیر تھر میں بھی پائے جاتے تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی پولیس نے بولان میل ٹرین سے میٹھے پانی کے کچھوں کا سترہ کلو سوکھا گوشت پکڑا ہے۔ گزشتہ سال بھی محکمہ جنگلی حیات ایسی بائیس سے زائد کارروایوں میں بیس تاجروں کو گرفتار کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق میٹھے پانی کے یہ کچھوے تھائی لینڈ، سنگاپور،ہانگ کانگ، ساؤتھ کوریا، چائنا، ویتنام اور تائیوان سمگل کیے جاتے ہیں جہاں کچھوے کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے اور اس کی مانگ میں اس قدر اضافہ ہوچکاہے کہ اسے مقامی وسائل سے پورا کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبیلو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام اکبر کا کہنا ہے کہ کراچی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اسمگلر ملک بھر سے یہ کچھوے پکڑ کر یہاں لاتے ہیں اور ان کا گوشت نکال کر اوپر فش لکھ دیتے ہیں، کراچی سے بڑے پیمانے پر مچھلی کی ایکسپورٹ ہوتی ہے اس لیئے پتہ نہیں چلتا کہ یہ واقع مچھلی ہے یا کچھوں کا گوشت ۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ایئرپورٹ پر کسٹم، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی چیکنگ زیادہ ہوتی ہے اس لیئے اسمگلر سمندر کا روٹ اختیار کرتے ہیں۔
صوبہ سندھ میں کشمور سے لیکر کیٹی بندر تک میٹھے پانی کے کچھوے پائے جاتے ہیں، ڈبیلو ڈبلیو ایف کے مطابق اندرون سندھ ان کچھوں کو پکڑنے میں مچھرے بھی شریک ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں منظم گروہ ملوث ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر حسین بخش بھاگت کا کہنا ہے کہ دلال عام لوگوں سے ایک سے دو سو روپے فی کچھوا خریدتے ہیں، چار پانچ کچھوں میں سے ایک کلو گرام گوشت نکل آتا ہے جو چار پانچ ہزار رپوں میں تاجر کو فروخت کیا جاتا ہے اگر کامیابی سے بیرون ملک منتقل ہوجائے تو تیس سے پنتیس ہزار روپے فی کلو تک فروخت ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کسی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیئے یہ کچھوے رات کی تاریکی میں پکڑے جاتے ہیں، جنہیں فوری ہلاک کرکے گوشت نکال کر سوکھا دیا جاتا ہے۔
کراچی میں گھروں، ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر جو مچھلی گھر بنائے جاتے ہیں ان میں رنگی برنگی مچھلیوں کے ساتھ کچھوے بھی رکھے جاتے ہیں۔
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ اور برنس روڈ سمیت کئی علاقوں میں ان کچھوں کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے، جہاں پر ایک سو سے لے کر ایک ہزار روپے تک مختلف سائز اور اقسام کے کچھوے فروخت ہوتے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر حسین بخش بھاگت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کچھوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی ہے، یہ کچھوا میٹھے پانی کا ہے سمندر کا یا خشکی کا یہ سوچے سمجھے پانی میں رکھے دیا جاتا ہے جہاں انہیں آکسیجن تو ملتی ہے مگر زیادہ عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے زیادہ دن زندہ نہیں رہے سکتا۔
کراچی اور بلوچستان کا ساحلی علاقہ سمندی کچھوں کا بڑا مسکن ہے مگر اسمگل ہونے والے کچھوں میں زیادہ تر میٹھے پانی کے ہوتے ہیں ۔
محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ میٹھے پانی کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو پسماندہ ہے وہاں امن امان کا بھی مسئلہ رہتا ہے اور ان کے محکمے کے پاس اتنی افرادی قوت اور وسائل نہیں ہے اس لیئے زیادہ موثر کارروائی نہیں ہوتی۔
اس کاروبار کے فروغ پانے کی ایک بڑی وجہ غربت اور بیروزگاری ہے جس وجہ سے لوگ ان کچھوں کو پکڑ کر بیچتے ہیں مگر ان وجوہات کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈاکٹر اکبر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ کچھوے کا تحفظ کیوں کیا جائے ان کا خیال ہے کہ کچھوہ ہی تو ہے اگر پکڑیں گے چار پیسے مل جائیں اس لئے لوگوں میں اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ اور بلوچستان میں تمام ہی اقسام کے کچھوے پکڑنے، رکھنے اور ان کی فروخت پر مکمل پابندی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے قانون کے مطابق اس جرم کے مرتکب لوگوں کو اکثر جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ان جرمانوں میں اضافے اور قید کی سزا بھی شامل کی جائے تاکہ قانون پر عمل درآمد بہتر طریقے سے ممکن ہوسکے۔
No comments:
Post a Comment