Monday, March 7, 2011

امین خٹک ، ملنگ سیاسی ورکر

امین خٹک کے انتقال سے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی قیادت سے نظریاتی اور نچلے طبقے کے لوگوں کا اختتام ہوگیا ہے، اس اپر کلاس نے اپنی پکڑ مضبوط کرلی ہوگی۔

سندھ میں پشتون قومپرست سیاست میں امین خٹک اہم مقام رکھتے تھے، ان کے سندھ کے ترقی پسندوں اور قوم پرستوں سے دیرینہ تعلقات تھے۔

امین خٹک کی پیدائش صوبہ خیبر پختون خواہ کے شہر نوشہرہ کے علاقے جلوزئی میں ہوئی، یہ علاقہ افغان پناہ گزین کی کیمپ کے باعث مشہور ہے۔

امین خٹک آٹھ جماعت پاس تھے اور روزگار کی تلاش میں کراچی آگئے جہاں سے انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ اور انیس سو چورانوے کو عوامی نینشل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری بنے اور دو سال بعد صوبائی صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

جنرل پرویز مشرف کے بھکاوے میں آکر جب اجمل خٹک نے عوامی نینشل پارٹی چھوڑ کر اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد ڈالی تو امین خٹک نے اس میں شمولیت اختیار کرلی مگر ان کے ساتھ زیادہ چل نہیں سکے اور دو ہزار تین میں عوامی نینشل پارٹی میں شامل ہوگئے جہاں انہیں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔

امین خٹک سنہ دو ہزار چھ میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے اور آخری وقت تک اس عہدے پر فائز رہے۔

ترقی پسند خیالات کے پیروکار امین خٹک نے جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جیلوں میں بھی گئے اور کوڑے بھی کھائے، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جس کے باعث انہیں کارکنوں اور مزدوروں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

کراچی کی سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے اس سیاسی کارکن کی جماعت سے وابستہ لوگوں نے ترقی کی کئی منزلیں طئے کیں مگر امین خٹک آخری وقت تک پٹیل پاڑہ کے دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے اور بغیر کسی پروٹوکول اور محافظوں کے جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کیا کرتے۔

کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے جاری نسلی ہنگامہ آرائی میں جب زبان کی بنیاد پر لوگوں کو پکڑ کر ماردیا جاتا اس صورتحال میں امین خٹک ایک سافٹ ٹارگٹ تھے جو آسانی سے دستیب ہوسکتے تھے مگر شاید مخالفین بھی ان کے قدر دان تھے۔

نجی زندگی میں بھی وہ ایک کمیٹیڈ شخیصت رہے انہوں نے شادی نہیں کی اپنے محروم بھائی اور بہن کے بچوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ امین خٹک کی نمازے جنازہ پٹیل پاڑہ میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کی میت تدفین کے ان کے ابائی گاؤں روانہ کردی گئی ہے۔

گزشتہ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں تیسری سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی جس نے دو صوبائی نشتییں حاصل کیں، اکثر جماعتوں سے ملاقاتوں اور فیصلہ سازی میں امین خٹک نمائندگی کرتے تھے۔ انتقال سے تین روز قبل کراچی میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی۔

کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پر اب اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگ حاوی ہیں مگر ان سب پر اپنی دانش اور سیاسی بصیرت کے باعث یہ ملنگ سیاسی ورکر حاوی رہا۔

1 comments:

Feel free to express said...

Well written on Ameen Khattak. He was really a "Malang".