Friday, March 4, 2011

کراچی آج خاموش ہے


ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی خاموش ہے، مگر آج اس کی خاموشی کی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ لاپتہ اور دکانوں کے شٹر گرے ہوئے ہیں۔
یہ خاموشی پہلی بار تو نہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل پر بھی اس نے چپ ساد لی تھی اور دو روز قبل اقلیتی وزیر شھباز شریف کے قتل پر بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے برابر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایسے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اس کے بعد انگریزی اخباروں کے کالموں اور انٹرنیٹ کی سوشل ویب سائیٹس پر گرما گرم بحث پر یہ سارے ترقی پسند ہاتھ سیکتے ہیں۔
روشنیوں کا شہر کراچی اپنی خاموشی تو اس وقت بھی نہیں توڑتا جب کسی تو نسلی یا فرقہ ورانہ یا مخالف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ٹارگٹ
بنایا جاتا ہے۔
ان واقعات پر خاموشی اور آج کی خاموشی میں تھوڑا فرق ہے آج اس میں احتجاج شامل ہے کیونکہ لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اور وہ یہ سمجھتے بھی ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ان گھر کے چولھے سے لیکر پوری زندگی پر بوجھ بڑھے گا مگر انہیں یہ کوئی نہیں سمجھانے والا کے پاکستان جو اسامہ اور ملا عمر کی پیروی پر چل نکلا ہے اس کے نتائج بھی کچھ ایسے ہی ہوں گے۔

No comments: