سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری نے کہا تھا کہ ’دادو میں ہے جادوʻ
مگر استاد بخاری یہ خواب اپنے ساتھ لیکر قبر میں چلے گئے۔آج ان کے نام سے شہر میں کالیج تو موجود ہے مگر جادو نہیں۔
پچھلے ہفتے دادو جانا ہوا ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور اٹھتی ہوئی دھول نے بازو پھیلا کر استقبال کیا، اس سے قبل بینظیر بھٹو کی شہادت کو تین ماہ ہونے کے بعد دادو سے گذر ہوا تھا اس وقت سوچا تھا کہ عوامی حکومت آنے سے یہاں کی صورتحال میں تبدیلی آئیگی کیونکہ ایم آر ڈی تحریک کے دوران اس ضلع کے لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے اسی مزاحمت پر اس علاقے کو سندھ کا ویتنام قرار دیا گیا۔
حالیہ سیلاب میں دادو کا شہر خیرپور ناتھن شاھ خاص طور پر متاثر ہوا ہے جہاں سیلاب کا پانی ڈیرا لگا کر رک گیا اور حکومتی دعواؤں کے باوجود اس کی نکاسی نہیں ہوسکی اور آخر سورج کی کرنوں نے پانی کا ایک ایک قطرہ سوکھا کر یہاں کے لوگوں کی زندگی کچھ قدر آرام دہ بنائی۔
دادو کے لوگ سیلاب کے دنوں کے دلچسپ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک ہی جماعت کے رکن اسمبلی کیسے دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر کسی کی کوشش تھی کہ وہ اپنے علاقے کو بچائے۔
سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے ایک بڑی تعداد غیر ملکی اداروں اور لوگوں کی پہنچ چکی ہے، مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ گورے بغیر کسی خوف خطرے کے رکشہ اور چنگچی میں چڑھ کر دادو میں گھومتے پھرتے ہیں۔ بعض نے تو ہاتھوں میں قلندری اور لاہوتی کڑے بھی پھن لیے ہیں، ملک کے تین صوبوں ان لوگوں کے لیے نوگو ایریا بن گئے ہیں اور سندھ ان کے لیے تفریح گاہ بن گئی، جس کی وجہ ظاہر ہے یہاں کے لوگوں کا مزاج اور خیال ہے ۔
دادو میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کونسا ادارہ کیا کر رہا ہے نہ تو مقامی انتظامیہ کو پتہ ہے نہ ہی لوگوں کو، کہیں بھی کوآرڈینیشن نظر نہیں آتا، ایک تنظیم نے سورج مکھی کے سیاہ بیج کسانوں میں تقسیم کیے ہیں یہ جانے بغیر کہ دادو کے گرم موسم میں یہ ہوں گے بھی یا نہیں کچھ لوگوں نے تو یہ بھی بتایا کہ بیج بہت آئے ہیں اور تنظیم کے کچھ لوگ اس کو فروخت کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
بین الاقوامی ترقیاتی ادارے نے کچے کے علاقے میں کئی سو لوگوں کو گھر تعمیر کرکے دیئے ہیں جو مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مٹی سے بنائے گئے ہیں جبکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ پکے گھر بنائے جائیں گے۔
قلندر شھباز اور لاہوتی فقیروں کی باعث صوفیانہ سوچ کی حامل دادو کی دیواروں پر اب ایسے نعرے بھی نظر آتے ہیں جو مذہبی انتھاپسندی کا پیغام دیتے ہیں کالعدم فرقہ ورانہ تنظیموں کے پوسٹر بھی واضح ہے صحافی دوستوں کا کہنا ہے کہ ابھی چند لوگوں کا ہی اس طرف رجحان ہے۔ مگر ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند سال پہلے تک ایسا کچھ نہیں تھا۔
روشنیوں کا شہر تو کراچی کو کہا جاتا ہے مگر اسٹریٹ لائیٹ کے پول دادو میں زیادہ نظر آتے ہیں اس کا راز جب میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس کام میں خرچہ کم اور منافعہ زیادہ ہے عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنی تمام توجہ اس طرف لگائی اور رقم رلیز ہونے سے قبل ہی کانٹریکٹر سے اپنا حصہ لے لیا اس قدر کہ ایک رکن اسمبلی نے اسکیم تو گیس کی فراہمی کی لی مگر بعد میں اسے اسٹریٹ لائیٹ میں تبدیل کرادیا اب ان پولوں میں بلب تو نہیں جلتے میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈے ضرور جھولتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment